مضامین بشیر (جلد 4) — Page 11
مضامین بشیر جلد چهارم 11 الہام اس شان اور اس جلال کے ساتھ نازل ہوا کہ میرے دل کی گہرائیوں میں ایک فولادی میخ کی طرح پیوست ہو کر بیٹھ گیا۔اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس رنگ میں میری کفالت فرمائی کہ کوئی باپ یا کوئی رشتہ دار یا کوئی دوست کیا کر سکتا تھا ؟ اور فرماتے تھے کہ اس کے بعد مجھ پر خدا کے وہ متواتر احسان ہوئے کہ ناممکن ہے کہ میں ان کا شمار کر سکوں۔خلاصه کتاب البریہ جلد 13 صفحہ 194-195 حاشیہ) بلکہ ایک جگہ اس خدائی کفالت کا ذکر کرتے ہوئے انتہائی شکر کے انداز میں فرماتے ہیں کہ: لُفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ كَانَ أُكْلِي وَ صِرْتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ الْأَهَالِي آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 596) یعنی ایک زمانہ تھا کہ دوسروں کے دستر خوانوں سے بچے ہوئے ٹکڑے میری خوراک ہوا کرتے تھے۔مگر آج خدا کے فضل سے میرے دستر خوان پر خاندانوں کے خاندان پیل رہے ہیں۔یہ اس زمانہ کی بات ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام باہر مسجد میں یا اپنے چوبارے میں نماز اور روزہ اور تلاوت قرآن مجید اور ذکر الہی میں مصروف رہتے تھے اور اندر سے ہماری تائی صاحبہ جن کے ہاتھ میں سارا انتظام تھا بچا ہوا ر وکھا سوکھا کھانا آپ کو بھجوایا کرتی تھیں۔خدائی نصرت اور خدائی کفالت کے اس عجیب و غریب واقعہ میں ہماری جماعت کے نوجوانوں اور خصوصاً واقف زندگی نو جوانوں کے لئے بھاری سبق ہے کہ اگر وہ بھی پاک و صاف نیت اور توکل علی اللہ کے خالص جذبہ کے ساتھ خدا کے نوکر بنیں گے تو وہ رحیم و کریم آقا جوسب و فاداروں سے بڑھ کر وفادار اور سب قدرشناسوں سے زیادہ قدر شناس ہے وہ انہیں بھی کبھی ضائع نہیں کرے گا۔کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص اپنا ہاتھ خدا کے ہاتھ میں دے اور وہ اس کے ہاتھ کو تھامنے سے انکار کرتے ہوئے اسے بے سہارا چھوڑ دے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے کہ: تجھے دنیا میں ہے کس نے پکارا کہ پھر خالی گیا قسمت کا مارا تو پھر ہے کس قدر اس کو سہارا کہ جس کا تو ہی ہے سب سے پیارا (اپنے بچوں کی آمین)