مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 198 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 198

مضامین بشیر جلد چهارم 198 دعاؤں میں پابندی اور تلاوت قرآن مجید کا کردار پیدا ہو۔یہ خصائل احمدی نوجوانوں کے لئے گویا ریڑھ کی ہڈی کا حکم رکھتے ہیں جس کے بغیر ہماری کمر کبھی سیدھی نہیں رہ سکتی اور کبڑا اور پانچ انسان کسی کام کے قابل نہیں رہتا۔پس ضروری ہے کہ اس تربیتی پروگرام کو دعاؤں اور ظاہری تدابیر کے ذریعہ ایک قومی منصوبہ کے طور پر اختیار کیا جائے اور وقتاً فوقتاً اس کا محاسبہ ہوتا رہے اور صدر انجمن احمد یہ بھی اس کی نگرانی کرے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ دعاؤں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طریق یہ تھا ( اور یہ کیا ہی مبارک طریق ہے کہ خواہ کسی امر کے لئے دعا کرنی ہو سب سے پہلے سورہ فاتحہ پڑھتے تھے جو ایک بہترین اور جامع ترین دعا ہے اور اس کے بعد درود پڑھتے تھے جس میں دراصل ساری قومی دعائیں شامل ہیں اور پھر ان دو بنیادی دعاؤں کے بعد دوسری دعائیں کرتے تھے اور ہمارے دوستوں کو بھی یہی بابرکت طریق اختیار کرنا چاہئے۔بالآخر یہ عاجز خود اپنے لئے اور اپنے اہل وعیال کے لئے بھی احباب جماعت سے دردمندانہ دعا کی درخواست کرتا ہے کہ خدا ہمیں ہمیشہ ایمان اور عمل صالح اور خدمت دین کے مقام پر قائم رکھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان متضر عانہ دعاؤں کو قبول فرمائے جو حضور نے اپنی اولاد کے لئے کی ہیں اور ہمارا وجود جماعت کے لئے ٹھوکر کا موجب نہ بنے بلکہ ہمیں دوسروں کے لئے نمونہ بننے کی توفیق دے اور ہمارا انجام بخیر ہو۔یہ خاکسار سب دوستوں (بہنوں اور بھائیوں) کے لئے ہمیشہ دعا گو رہتا ہے اور ان کی دین و دنیا میں ترقی کا متمنی۔(محررہ 6 مارچ 1961 ء ) روزنامه الفضل ربوہ 6 مارچ 1961ء) انصار اللہ کے لئے میرا پیغام مکرم قریشی عبد الرحمن صاحب ناظم مجالس انصارالله خیر پور ڈویژن نے اپنی ڈویژن کے سالانہ اجتماع منعقدہ 11 ، 12 فروری 1961 ء کے سلسلہ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سے انصار اللہ کے نام پیغام ارسال فرمانے کی درخواست کی تھی۔حضرت میاں صاحب نے خیر پور ڈویژن کے انصار اللہ کے لئے مکرم