مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 165 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 165

مضامین بشیر جلد چهارم 165 اک قطرہ اس کے فضل نے دریا بنا دیا میں خاک تھا اسی نے ثریا بنا دیا براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 20) قطرہ سے دریا بنے کا ایک نظارہ تو اس جلسہ میں بھی نظر آ رہا ہے کہ پچھتر (75) کی قلیل تعداد سے شروع ہو کر اب ہمارے جلسہ میں حاضرین کی تعداد خدا کے فضل سے پچھتر ہزار تک پہنچ گئی ہے اور ثریا کا روحانی نظارہ بھی انشاء اللہ اقوامِ عالم کی ہدایت کے ذریعہ دنیا اپنے وقت پر دیکھ لے گی۔14 ریاست کپورتھلہ کا ایک بڑا عجیب واقعہ ہے۔وہاں ایک مختصر مگر ایک نہایت درجہ مخلص جماعت تھی جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ عشق تھا اور حضور بھی ان فدائی دوستوں کے ساتھ بڑی محبت رکھتے تھے۔جیسا کہ اور کئی دوسرے شہروں میں ہوا ہے۔کپورتھلہ کے بعض غیر احمدی مخالفوں نے کپورتھلہ کی احمدی مسجد پر قبضہ کر کے مقامی احمدیوں کو بے دخل کرنے کی کوشش کی۔بالآخر یہ مقدمہ عدالت میں پہنچا اور کافی دیر تک چلتا رہا۔کپورتھلہ کے دوست بہت فکر مند تھے اور گھبراگھبرا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں دعا کے لئے عرض کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود نے ان دوستوں کے فکر اور اخلاص سے متاثر ہو کر ایک دن ان کی درخواست پر غیرت کے ساتھ فرمایا: گھبراؤ نہیں۔اگر میں سچا ہوں تو یہ مسجد تمہیں مل کر رہے گی“ (اصحاب احمد جلد 24 شائع کردہ مجلس انصاراللہ ) مگر عدالت کی نیت خراب تھی اور حج کا رویہ بدستور مخالفانہ رہا۔آخر اس نے مقدمہ کا فیصلہ لکھا اور احمدیوں کے خلاف ڈگری دی۔مگر ابھی اس نے فیصلہ پر دستخط نہیں کئے تھے اور خیال تھا کہ عدالت میں جا کر دستخط کروں گا۔اس وقت اس نے اپنی کوٹھی کے برآمدہ میں بیٹھ کر نوکر سے بوٹ پہنانے کو کہا۔نوکر بوٹ پہنا ہی رہا تھا کہ حج پر اچانک دل کا حملہ ہوا اور وہ چند لمحوں میں ہی ختم ہو گیا۔اس کی جگہ جو دوسراج آیا اس نے مسل دیکھ کر احمد یوں کو حق پر پایا اور مسجد احمدیوں کو دلا دی۔یہ اسی قسم کا غیر معمولی نشانِ رحمت ہے جس سے قومیں زندہ ہوتی اور نصرت الہی کا کبھی نہ بھولنے والا سبق حاصل کرتی ہیں۔کپورتھلہ کی یہ جماعت وہی فدائی جماعت ہے جس کے ایمان اور اخلاص کو دیکھ کر ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا تھا کہ : میں امید کرتا ہوں کہ کپورتھلہ کی جماعت جس طرح اس دنیا میں میرے ساتھ رہی ہے اسی طرح