مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 134 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 134

مضامین بشیر جلد چهارم 134 سے ان کے متعلق جاری ہوں اور جن امور میں حکومت کی طرف سے ان پر پابندی عائد کی جائے ان کی تعمیل میں سرِ مو فرق نہیں آنا چاہئے۔ایمان اور دیانت کا یہی تقاضا ہے کہ جب کوئی شخص حکومت کی ملازمت اختیار کرتا ہے تو ملازمت اختیار کرنا ہی اس کی طرف سے اس بات کا عہد ہوتا ہے کہ وہ اپنے فرائض کو سرگرمی اور اخلاص اور دیانت کے ساتھ ادا کرتا رہے گا۔اور حکومت کی جاری شدہ تمام ہدایات کی پوری طرح پابندی کرے گا۔اس عہد کی خلاف ورزی اسے حکومت کی طرف سے بھی قابل مواخذہ بناتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے رو برو بھی وہ جواب دہ ہوتا ہے اور وہ اپنے ایمان اور تعلق باللہ کو خطرہ میں ڈالتا ہے۔“ (اخبار مصلح 18 جون 1953ء) عقلاً بھی یہ بات کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ جو جماعت عالمگیر مشن رکھتی ہو اور اس نے ہر ملک میں تبلیغ کرنی ہو اور ہر قوم میں اس کے ممبر اور ہم عقیدہ لوگ پائے جاتے ہوں وہ لازماً اسی اصول پر قائم ہوسکتی ہے کہ جس ملک میں کوئی شخص رہے وہ اس کی حکومت کا پوری طرح وفادار رہنا چاہئے۔ورنہ ایسی قوم دنیا میں قیامِ امن کا موجب بنے کی بجائے عالمگیر فساد کا باعث بن جائے گی اور دنیا میں ایک ایسی کشمکش شروع ہو جائے گی جو یا تو خود ایسی قوم کو تباہ کر کے رکھ دے گی یا مختلف قومیں آپس میں الجھ کر دنیا کے امن کو برباد کر دیں گی۔اور ظاہر ہے کہ کوئی سمجھ دار قوم ایسی خود کشی یا ایسی عالم کشی کا اقدام نہیں کر سکتی۔مثلاً جماعت احمدیہ کے افراد عراق اور شام اور مصر اور کینیا اور یوگنڈا اور ٹانگانیکا اور نائیجیریا اور گھانا اور سیرالیون اور سوئیٹرز لینڈ اور ہالینڈ اور جرمنی اور برطانیہ اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور کینیڈا اور جنوبی امریکہ وغیرہ میں پائے جاتے ہیں اور پاکستان اور ہندوستان سے باہر بھی بعض ممالک میں ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے اور دن بدن بڑھ رہی ہے۔اب کیا یہ بات خیال میں آسکتی ہے کہ ایسی قوم دورخی وفاداری یعنی ڈیوائیڈ ڈ فائیڈیلیٹی Divided) (Fidelity کے اصول پر ایک دن کے لئے بھی قائم رہ سکتی ہے؟ بالآخر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر خدانخواستہ دو ایسے ملکوں میں لڑائی چھڑ جائے جن میں احمدی بستے ہوں اور وہ دونوں اپنی اپنی حکومتوں کی وفاداری کا دم بھرتے ہوں تو اس صورت میں جماعت احمدیہ کی پوزیشن کیا ہوگی ؟ سو یہ سوال بھی کوئی نیا سوال نہیں۔نہ یہ سوال ہمارے لئے نیا ہے اور نہ دنیا کے لئے نیا ہے۔ہماری طرف سے تو یہ ہمیشہ یہ جواب ہوتا رہا ہے کہ خدا کے فضل سے پھر بھی ہماری یہی پوزیشن ہوگی کہ ہر ملک کے احمدی اپنے ملک کے وفادار رہیں گے۔کیونکہ ہمارا یہ عقیدہ خود ساختہ عقیدہ نہیں ہے بلکہ خدا کا بتایا ہوا اور رسول کا سمجھایا ہوا عقیدہ ہے جسے کسی صورت میں بدلا نہیں جا سکتا۔اگر