مضامین بشیر (جلد 4) — Page 133
مضامین بشیر جلد چهارم 133 یعنی جو شخص میری اطاعت کرتا ہے وہ دراصل خدا کی اطاعت کرتا ہے اور جو شخص میری نافرمانی کرتا ہے وہ دراصل خدا کی نافرمانی کرتا ہے۔اور جو شخص اپنے حاکم کی اطاعت کرتا ہے وہ بھی دراصل میری اطاعت کرتا ہے اور جو شخص حاکم کی نافرمانی کرتا ہے وہ دراصل میری نافرمانی کرتا ہے۔اس حدیث میں اطاعت کے فلسفہ پر بڑی روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ دراصل اطاعت کا حق دار تو صرف خدا ہے جو ہمارا خالق و مالک اور افراد و اقوام عالم کا آقا ہے اور باقی سب ظل کے طور پر اس حکم میں آتے ہیں۔نبی خدا کا نمائندہ اور اس کا پیغامبر اور لوگوں تک اس کے احکام پہنچانے والا ہے اس لئے اس کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے۔حاکم خدا کی مخلوق میں نظام اور امن قائم رکھنے والا اور اس کے بندوں کی جان و مال اور آبرو کا محافظ ہے اس لئے اس کی اطاعت بھی خدا کے منشاء کو پوری کرنے والی ہے اور گویا خود اسی کی اطاعت ہے۔اس طرح یہ ساری اطاعتیں در حقیقت ایک ہی لڑی میں پروئی ہوئی ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل بجا فرمایا ہے کہ میری اطاعت خدا کی اطاعت ہے اور حاکم کی اطاعت میری اطاعت ہے۔اسی اصول کی روشنی میں جماعت احمدیہ کے موجودہ امام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفة المسیح الثانی فرماتے ہیں: ”ہماری جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ اسلام کی تعلیم کی رو سے جس حکومت میں بھی کوئی شخص رہے اس حکومت کا اسے وفادار رہنا چاہئے۔یہ خیال کرنا کہ ہندوستان اور پاکستان کے احمدیوں کی اپنی حکومتوں سے وفاداری صرف اسی وقت تک ہو گی جب تک امام جماعت احمدیہ ان کو ایسا کرنے کا حکم دیتا ہے اول درجہ کی حماقت اور بیوقوفی ہے۔اس معاملہ میں امام جماعت احمد یہ کوئی حق ہی نہیں رکھتا۔اسلامی تعلیم کو دوہرانا ( اور اس پر لوگوں کو چلانا ) اس کا کام ہے وہ اسے بدل نہیں سکتا۔حکومت کی وفاداری ہمارے نزدیک قرآن کریم کا حکم ہے اور قرآن خدا تعالیٰ کی کتاب ہے۔کوئی خلیفہ یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اس حکم کو بدل دے۔کیونکہ خلیفہ ڈکٹیٹر نہیں بلکہ وہ نائب ہے اور نائب اپنے بالا حکام کے احکام کا اسی طرح تابع ہوتا ہے جیسا کہ دوسرے لوگ۔“ 66 اسی طرح ایک دوسرے موقع پر فرماتے ہیں کہ: (الفضل مؤرخہ 5 اپریل 1949ء) سرکاری افسروں اور ملازمین پر خصوصیت سے ان ہدایات کی پابندی لازم ہے جو حکومت کی طرف