مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 129 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 129

مضامین بشیر جلد چهارم 129 ناجائز فائدہ اٹھا کر جو نا پاک مہم بعض لوگوں نے جماعت کے خلاف شروع کر رکھی ہے اس سے ہرگز ہراساں نہ ہوں اور صبر وصلوٰۃ سے کام لیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ خدا کا وعدہ ہے کہ: نُبَدِ لَنَّكَ مِنْ بَعْدِ خَوفِكَ أَمْنًا یعنی ہم تیرے خوف کی حالت کے بعد اسے پھر امن کی صورت میں بدل دیں گے۔البتہ یہ ضروری ہے کہ ہم ان ایام میں خصوصیت کے ساتھ خدا کے حضور دعائیں کریں اور اس کی طرف جھکیں اور اس کے دامن سے لپٹ کر اس کی قدرت اور رحمت کے نشانوں کے طالب ہوں۔ایک طرف حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کی صحت اور شفایابی کے لئے دعائیں کریں تا کہ اللہ تعالیٰ حضور کی موجودہ بیماری کو (جو بشریت کا ایک طبعی لازمہ ہے) اپنے فضل وکرم سے دور فرمائے اور دوسری طرف جماعت کی ترقی اور مضبوطی اور نو جوانوں کی تربیت کے لئے بھی خدا کے حضور خاص طور پر دعائیں کریں اور اس کے لئے ہر ممکن ظاہری تدابیر سے بھی کام لیں تاکہ دعا اور دوا کا اثر مل کر بہترین نتیجہ پیدا کرے۔اور اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنے نفسوں کا بھی محاسبہ کرتے رہیں اور اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش میں لگے رہیں۔حضرت یوسف علیہ السلام خدا کے ایک پیارے نبی تھے وہ فرماتے ہیں اور کس عاجزی سے فرماتے ہیں کہ: وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي (يوسف: 54) یعنی میں اپنے نفس کو کمزوریوں سے مبرا نہیں قرار دیتا کیونکہ انسانی نفس بسا اوقات ٹھوکر کھا جاتا ہے اور بدی کی طرف جھک جاتا ہے سوائے اس کے خدا اپنے رحم سے سنبھال لے۔تو جب خدا کے ایک برگزیدہ نبی کا یہ قول ہے تو ہم کس حساب میں ہیں۔پس ضروری ہے کہ دعاؤں کے ساتھ ساتھ ہم لوگ اپنے نفسوں کا محاسبہ بھی کرتے رہیں۔بعض اوقات جماعت کی کوئی کمزوری امام کے لئے ایک امتحان بن جاتی ہے۔کیونکہ جس طرح امام کے اعمال کا اثر جماعت پر پڑتا ہے اسی طرح جماعت کے اعمال کا اثر امام پر پڑتا ہے۔اور خدا کا یہ بھی ایک قانون ہے کہ: إِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَاتِ (هود: 115) یعنی نیکیوں میں خدا کی طرف سے یہ تاثیر رکھی گئی ہے کہ وہ بدیوں کے اثر کو مٹادیتی ہیں۔پس اے میرے عزیز و اور دوستو اور بزرگو اور بھائیو اور بہنوں! اپنے اعمال کا محاسبہ کر کے اپنی بدیوں کو مٹاؤ اور نیکیوں کو بڑھاؤ کہ یہی ہماری ترقی اور ہماری مضبوطی اور ہماری دعاؤں کی قبولیت کا واحد ذریعہ ہے۔