مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 695 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 695

مضامین بشیر جلد سوم 695 گیا ہے۔یعنی تمہاری معلومات کا اکثر حصہ محض تخیل اور قیاس آرائی یا نظر کے دھو کے پر مبنی ہے اور صحیح معلومات بہت کم ہیں۔اس کا ذریعہ صرف اذن الہی ہے اس آیت سے ظاہر ہے کہ روحوں کے ساتھ ملاقات تو یقینا ممکن ہے مگر یہ نہیں کہ جس نے چاہا اور جب چاہا کسی مرنے والے کی روح کو بلا کر اس کے ساتھ بات چیت کر لی۔یہ نظریہ قرآنی تعلیم کے سراسر خلاف ہے جو اس دنیا اور دوسری دنیا کے درمیان ایک برزخ یعنی روک اور روٹ کا قائل ہے اور صراحت کے ساتھ فرماتا ہے کہ روحوں کے ساتھ زندوں کا رابطہ صرف اذن الہی کے ساتھ ممکن ہے اس کے بغیر ہر گز نہیں۔دنیا بھر کے انبیاء اور اولیاء کی تاریخ ایسے واقعات سے معمور ہے کہ دعا اور توجہ کرنے پر اذن الہی سے ان کی کسی مرنے والے کی روح کے ساتھ ملاقات ہو گئی۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ جب احد کے میدان میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی عبداللہ شہید ہو گئے تو ایک کشفی انکشاف کی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جواں سال مخلص لڑ کے جابڑ سے از راہ دلداری فرمایا کہ تمہارے والد شہید ہو کر خدا کے سامنے پیش ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانی سے خوش ہو کر فرمایا کہ اگر کوئی خواہش ہو تو بیان کرو۔جابر کے والد عبداللہ نے عرض کیا۔خدایا! تیری کسی نعمت کی کمی نہیں مگر یہ تڑپ ضرور ہے کہ پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر تیرے رستہ میں جان دوں اس پر خدا تعالیٰ نے فرمایا ہم تمہاری اس خواہش کو بھی پورا کر دیتے مگر ہم ایک ازلی ابدی عہد کر چکے ہیں جو قرآن کے الفاظ میں یہ ہے کہ: أَنَّهُمْ لَا يَرْجَعُونَ۔یعنی مرنے والے اس دنیا میں دوبارہ نہیں آسکتے۔( ترمذی وابن ماجه ) اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر میں قتل ہونے والے کفار کی لاشوں کے درمیان کھڑے ہوئے تو آپ کو عالم کشف میں ان کی روحیں دکھائی گئیں۔جنہیں دیکھ کر آپ نے جوش کے ساتھ فرمایا کہ ” ہم نے تو اپنے رب کا وعدہ پورا ہوتے دیکھ لیا کیا تم نے بھی خدا کا وعدہ پورا ہوتے دیکھا؟“ (صحیح بخاری کتاب المغازی) اسی طرح سلسلہ احمدیہ کے مقدس بائی اپنے ایک مشہور عربی قصیدہ میں فرماتے ہیں کہ :