مضامین بشیر (جلد 3) — Page 47
47 مضامین بشیر جلد سوم مومنوں کی کثرت رائے کام کرتی ہے جیسا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے تعلق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ يَأْبَى اللَّهُ وَيَدْفَعُ الْمُؤْمِنُونَ ( صحیح البخاری، کتاب الاحکام ) یعنی خدا تعالیٰ ابو بکر کے سوا کسی اور کی خلافت پر راضی نہ ہوگا اور نہ ہی مومنوں کی جماعت کسی اور کے انتخاب کو قبول کرے گی۔پس ہر غیر مامور خلیفہ کے متعلق اس ظاہری شرط کا پایا جانا ضروری ہے کہ وہ مومنوں کی اتفاق رائے یا کثرت رائے سے منتخب ہوا ہو۔(سوائے اس کے کہ خاص حالات میں کوئی منتخب شدہ خلیفہ اپنے بعد کسی شخص کو خلیفہ مقرر کر جائے۔جس کے لئے علیحدہ استثنائی قانون مقرر ہے )۔دوسری علامت جو باطنی علامتوں میں سے ہونے کی وجہ سے کسی قدر غور اور مطالعہ چاہتی ہے وہ ہے جو قرآن شریف نے آیت استخلاف میں بیان کی ہے یعنی۔وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا (النور:56) یعنی خدا تعالیٰ خلفاء کے ذریعہ ان کے دین کو تمکنت اور مضبوطی عطا کرے گا (اور ان کے ذریعہ جماعت کی ) خوف کی حالت کو امن سے بدل دے گا۔ظاہر ہے کہ ہر نبی کی وفات پر اور نبی کے بعد ہر خلیفہ کی وفات پر جماعت میں ایک قسم کا زلزلہ وارد ہوتا ہے اور جماعت کے لوگ بعض اندرونی اور بیرونی فتنوں کی وجہ سے جماعت کے مستقبل کے متعلق خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ اب کیا ہو گا ایسے وقت میں خدا کی یہ سنت ہے کہ وہ اپنے مقرر کردہ خلیفہ کے ذریعہ انہیں اطمینان اور تمکنت عطا فرما تا اور ان کی خوف کی حالت کو امن سے بدل دیتا ہے۔گویا خلافت کا درخت اپنے پھل سے بتا دیتا ہے کہ یہ پودا خدا کا لگایا ہوا ہے۔چنانچہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے سچے خلیفہ کی علامت کے متعلق سوال کیا اور پوچھا کہ یہ کیونکر معلوم ہو کہ خدا تعالیٰ نے کسی کو خلیفہ مقرر کیا ہے تو اس کے جواب میں آپ نے فرمایا۔خلافت کا نشان ( قرآنی آیت ( وَلَيُمَكِّنَنَّ میں دیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ جس کو خلیفہ بنا تا ہے اس کی (بقیہ حاشیہ صفحہ 46) تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کونا بود ہوتے ہوتے تھام لیا۔“ الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 305) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی مذکورہ بالا تحریر سے ظاہر ہے کہ خلافت کا سلسلہ دائمی ہے اور قیامت تک منقطع نہ ہو گا۔(روز نامہ الفضل ربوہ 9 اپریل 1952ء)۔۔۔۔۔۔۔