مضامین بشیر (جلد 3) — Page 659
مضامین بشیر جلد سوم 659 اعضاء کی طرح ہوتے ہیں۔جس طرح جسم کے کسی ایک عضو میں درد ہونے سے سارا جسم بے چین ہونے لگتا ہے اسی طرح مومنوں کی جماعت کا حال ہے کہ ایک بھائی کے حادثہ یا صدمہ سے ساری جماعت بے کل ہو جاتی ہے۔یقینا یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عظیم الشان معجزہ ہے جس نے ہم سب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی طرح بھائی بھائی بنا دیا ہے۔اور انشاء اللہ جماعت اس وقت تک ترقی کرتی جائے گی جب تک کہ یہ دینی اخوت قائم رہے گی کیونکہ اتحاد اور محبت میں ہی قومی ترقی کا راز ہے۔چوہدری عبداللہ خان صاحب مرحوم واقعی بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔ان کی وہ خدمات جن کی ان کو اپنی زندگی کے آخری سالوں میں کراچی کی امارت کے زمانہ میں تو فیق ملی خصوصیت سے بہت نمایاں ہیں کہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک عام جماعت اخلاص اور قربانی اور تنظیم میں خدا کے فضل اور توفیق سے ایک مثالی جماعت بن گئی۔فَجَزَاهُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءُ وَرَفَعَ دَرَجَاتُهُ فِي السَّمَاءِ دوست تو غالباً صرف اس بناء پر مجھے ہمدردی کے خطوط لکھ رہے ہیں کہ میں نے چوہدری صاحب کی بیماری میں ان کے لئے بار بار دعا کی تحریک کی۔مگر شاید ان کو یہ علم نہیں کہ چوہدری عبداللہ خان صاحب کے ساتھ میرے پانچ جہت سے خاص تعلقات تھے۔اول ان کی اہلیہ عزیزہ آمنہ بیگم سلمہا کی والدہ مرحومہ (جو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی نواسی تھیں ) میری دودھ کی بہن تھیں۔دوسرے خود عزیز ہ آمنہ بیگم سلمہا میری رضاعی بیٹی ہیں۔یعنی انہوں نے عزیز مظفر احمد سلمہ کے ساتھ ام مظفر احمد سلمہا کا دودھ پیا ہوا ہے۔تیسرے محترم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب جو چوہدری عبداللہ خان صاحب کے بڑے بھائی ہیں وہ میرے کالج کے زمانہ کے بہت عزیز دوست ہیں۔جس کے بعد ان کے ساتھ مسلسل اخوت اور رفاقت کا خاص رشتہ چلا آیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو نرینہ اولاد سے نوازے اور خدمت دین کی لمبی عمر دے )۔چوتھے چوہدری عبداللہ خان صاحب کے والد بزرگوار یعنی محترم چوہدری نصر اللہ خان صاحب مرحوم کے ساتھ بھی اس خاکسار کے بہت تعلقات تھے۔بلکہ جب وہ پہلی دفعہ ہجرت کر کے قادیان آئے اور ناظر اعلیٰ مقرر ہوئے تو وہ کافی عرصہ تک میرے پاس میرے مکان پر ہی ٹھہرے تھے۔پانچویں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ چوہدری عبداللہ خان صاحب کے اوصاف اور ان کی جماعتی خدمات اور امام جماعت کے ساتھ چوہدری صاحب کی والہانہ محبت کی وجہ سے میرے دل میں ان کی بڑی قدر تھی۔پس میں پھر ان بھائیوں اور بہنوں اور جماعتوں کا شکر یہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے روحانی اخوت کی بناء پر چوہدری صاحب کی وفات پر میرے ساتھ محبت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔جَزَاهُمُ اللَّهُ خَيْراً۔