مضامین بشیر (جلد 3) — Page 41
مضامین بشیر جلد سوم 41 کوشش کرنے والے باغی اور منافق ہیں۔پس ان دو باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور کوئی دانا شخص انہیں ایک نہیں قرار دے سکتا۔حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیا خوب فرماتے ہیں کہ ”خدا تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا لیکن منافق لوگ اسے اتارنا چاہیں گے۔مگر تم اسے ہرگز نہ اُتارنا ( سنن ترندی کتاب المناقب عن رسول اللہ فی مناقب عثمان بن عفان ) کیا اس صریح ارشاد کے ہوتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح خلیفہ کے تقرر کے متعلق لوگوں کی آواز کو خدا تعالیٰ کی آواز قرار دیا جاتا ہے اسی طرح عزل کے متعلق بھی ان کی آواز کو خدا تعالیٰ کی آواز قرار دیا جائے؟ بات بالکل صاف اور واضح ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں بارہ (12) جگہ خلافت کو اپنی طرف منسوب کیا ہے اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حضرت ابو بکر اور حضرت عثمان سے تعلق رکھنے والے ارشادات میں خلیفہ کے تقرر کو خدا تعالیٰ کا فعل قرار دیا ہے اور حضرت عثمان والی حدیث میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں باتوں کو بالمقابل رکھ کر ان کے تقرر کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے اور ان کے عزل کی کوشش کو منافقت کا فعل گردانا ہے اور یہی تشریح خلافت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی ہے۔تو کیا ان واضح اور روشن حقائق کے ہوتے ہوئے کوئی مسلمان یہ کہنے کی جرات کر سکتا ہے کہ جس طرح خلیفہ کے تقرر کے معاملہ میں لوگوں کی آواز خدا تعالیٰ کی آواز سمجھی جاتی ہے۔اسی طرح عزل کے معاملہ میں بھی لوگوں کی آواز کو خدا تعالیٰ کی آواز سمجھا جائے ؟ ان دونو باتوں میں دن اور رات اور نور اور ظلمت کا فرق ہے اور کوئی عقلمند انسان انہیں ایک نہیں قرار دے سکتا۔سوال کرنے والے لوگ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ کیا خلافت کا نظام دائمی ہے۔یعنی ایک نبی اور مامور کی وفات کے بعد یہ ضروری ہے کہ اس کی خلافت کا سلسلہ ہمیشہ قائم رہے؟ اگر یہ سلسلہ دائمی ہے تو اسلام کا جمہوریت کا نظام تو گوی ختم ہو گیا۔اس کے جواب میں اچھی طرح یا درکھنا چاہئے کہ گوخلافت کا حکم دائگی ہے۔یعنی جب بھی کوئی نبی مبعوث ہو گا تو اس کے بعد لازماً خلافت آئے گی۔مگر خلافت کا سلسلہ دائمی نہیں ہے یعنی یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک نبی کے بعد اس کے خلفاء کا سلسلہ قائم رہے۔بلکہ خلفاء کے سلسلہ کا زمانہ حالات اور ضرورت پر موقوف ہے۔یعنی چونکہ خلافت نبوت کا تمہ ہے اس لئے جب تک خدا تعالیٰ کسی نبی کے کام کی تکمیل اور اس کے بوئے ہوئے بیج کی حفاظت کے لئے خلافت کا سلسلہ ضروری خیال فرماتا ہے یہ سلسلہ قائم رہتا ہے اور اس کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو جاتا ہے اور پھر خلفاء کی جگہ ملوکیت یا بالفاظ دیگر جماعت اور قوم کا دور