مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 40 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 40

مضامین بشیر جلد سوم 40 میں فیصلہ دے دوں جو چرب زبان ہے۔لیکن حق پر نہیں۔مگر میرے فیصلہ کی وجہ سے کوئی مال جھوٹے شخص کے لئے جائز نہیں ہو جائے گا۔پس جب اجتہادی امور میں ایک نبی بھی غلطی کر سکتا ہے تو یہ کہنا کس طرح جائز ہوگا کہ چونکہ خلیفہ غلطی کر سکتا ہے اس لئے اس کے عزل کی اجازت ہونی چاہئے۔میں پھر کہتا ہوں کہ بے شک نبی اور غیر مامور خلیفہ کے مقام میں بڑا فرق ہے۔نبی تابع ہے اور خلیفہ متبوع۔نبی لاز ما معصوم ہوتا ہے اور خلیفہ ضروری نہیں کہ معصوم ہو۔نبی براہ راست الہام کے ذریعہ مبعوث ہوتا ہے اور خلیفہ کے تقرر میں گو اصل تقدیر خدا کی چلتی ہے مگر بظاہر لوگوں کے انتخاب کا بھی دخل ہوتا ہے۔نبی کی سنت دائمی ہوتی ہے اور خلیفہ کی سنت اس کے زمانہ کے لئے محدود۔لیکن بایں ہمہ وہ دونوں ایک ہی روحانی مشین کے کل پرزے ہیں اور دونوں علی قدر مراتب خدا کی رحمت اور قدرت کے سایہ میں پرورش پاتے ہیں اور خدا تعالیٰ خلفاء کو بھی ایسی غلطی سے بچاتا ہے جو الہی جماعت کے لئے تباہ کن ہو۔اس لئے صوفیاء نے لکھا ہے کہ گونبیوں کی طرح اولیاء اور خلفاء کو معصوم قرار نہیں دیا جا سکتا مگر وہ محفوظ ضرور ہوتے ہیں۔یعنی وہ بحیثیت مجموعی خدا کی حفاظت کے نیچے ہوتے ہیں اور خدا کا سایہ ان کے سر پر رہتا ہے۔پس اس جہت سے بھی خلفاء کے عزل کا سوال نہیں اٹھ سکتا۔ان کے عزل کا ایک اور صرف ایک ہی رستہ ہے کہ خدا تعالیٰ انہیں موت کے ذریعہ اپنے پاس بلا لے اور موت خدا تعالیٰ کے حکم کے نیچے ہے۔کیا اعتراض کرنے والے اتنی موٹی سی بات بھی نہیں سمجھ سکتے کہ اگر دین خدا تعالیٰ کا ہے تو اسے اپنے دین کی ان لوگوں سے بڑھ کر فکر ہونی چاہئے۔پھر کہا جاتا ہے کہ مگر باوجود اس کے کہ بظاہر خلفاء کا انتخاب لوگ کرتے ہیں۔اس انتخاب کو خدا کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔تو اگر لوگ کسی خلیفہ کے عزل کا فیصلہ کریں تو ان کے اس فیصلہ کو بھی کیوں نہ خدا تعالیٰ کا فیصلہ قرار دیا جائے ؟ آخر جب خلیفہ کے تقرر کے معاملہ میں لوگوں کی آواز خدا تعالیٰ کی آواز بن جاتی ہے تو خلیفہ کے عزل کے معاملہ میں بھی اس آواز کو کیوں نہ وہی رتبہ حاصل ہو؟ مگر یہ اعتراض بھی بالکل سطحی اور بودا ہے۔کیونکہ ہم نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ لوگوں کی ہر بات خدا کی بات ہوتی ہے اور لوگوں کا ہر فیصلہ خدا کا فیصلہ سمجھا جانا چاہئے۔بلکہ ہم نے تو صرف یہ کہا ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ خلافت کے تقرر کو اپنی طرف منسوب فرماتا ہے اور صاف کہتا ہے کہ خلیفہ میں بناتا ہوں۔اس لئے لوگوں کی وہ آواز جو خلیفہ کے تقرر کے متعلق ہوگی وہ خدا کی آواز قرار دی جائے گی۔لیکن اس کے مقابل پر خدا تعالیٰ نے کسی جگہ یہ نہیں فرمایا اور نہ اس کے رسول نے کہیں ایسا کہا ہے کہ عزل کے متعلق بھی لوگوں کی آواز کو خدا تعالیٰ کی آواز سمجھو۔اس لئے ایسی آواز کو ہرگز خدا تعالیٰ کی آواز نہیں سمجھا جائے گا۔بلکہ عزل کے متعلق اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ اس کی