مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 581 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 581

مضامین بشیر جلد سوم 581 نو جوانوں اور خصوصاً کالج کے طلبہ نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔اس تعلق میں مجھے محترم میاں عطاء اللہ صاحب امیر جماعت راولپنڈی نے ایک حوالہ بھجوایا ہے جس میں ہستی باری تعالیٰ کے متعلق ایک امریکن سائنس دان کی شہادت درج ہے جو بعینہ اسی نوعیت کی ہے جو میں نے اپنی کتاب ”ہمارا خدا‘ میں نظامِ عالم کی دلیل کے ماتحت ایک بدوی عرب کے قول کی بناء پرلکھی ہے۔میں ان دونوں کو ذیل میں درج کرتا ہوں تا ناظرین یہ اندازہ کر سکیں کہ کس طرح دنیا بھر کے صحیح الفطرت لوگوں کا دماغ جو ہر زمانہ اور ہر قوم اور ہر طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اس معاملہ میں ایک لائن پر کام کرتا چلا آیا ہے۔میں نے اپنی کتاب ”ہمارا خدا“ میں لکھا تھا کہ: ” میرے سامنے اس وقت ایک عرب بدوی کا قول ہے جس سے کسی نے پوچھا تھا کہ تیرے پاس خدا کی کیا دلیل ہے؟ اس نے بے ساختہ جواب دیا کہ: الْبِعْرُ تَدُلُّ عَلَى الْبَعِيرِ وَ أَثرُ الْقَدَمِ إِلَى السَّفِيرِ فَالسَّمَاءُ ذَاتِ الْبروحِ وَالارْضِ ذات الْفُجَاجِ أَمَّا تَدُلُّ عَلَىٰ قَدِيرِ یعنی جب کوئی شخص جنگل میں سے گزرتا ہوا ایک اونٹ کی مینگنی دیکھتا ہے تو وہ سمجھ لیتا ہے کہ اس جگہ سے کسی اونٹ کا گزر ہوا۔اور جب وہ صحرا کی ریت پر کسی آدمی کے پاؤں کے نشان پاتا ہے تو وہ یقین کر لیتا ہے کہ یہاں سے کوئی مسافر گزرا ہے۔تو کیا تمہیں یہ زمین مع اپنے وسیع راستوں کے اور یہ آسمان مع اپنے سورج اور چاند اور ستاروں کے دیکھ کر اس طرف خیال نہیں جاتا کہ ان کا بھی کوئی بنانے والا ہوگا ؟ اللہ اللہ کیا ہی سچا اور کیا ہی تصنع سے خالی مگر دانائی سے پر یہ کلام ہے جو اس ریگستان کے ناخواندہ فرزند کے منہ سے نکلا۔“ ”ہمارا خدا زیر بحث کا ئنات خلق کی دلیل صفحہ 56-57) اب اس کے مقابل پر ناظرین پروفیسر ایڈون کا نکن پرنسٹن یو نیورسٹی کا قول ملاحظہ کریں جو امریکہ کے مشہور رسالہ ریڈرز ڈائجسٹ“ بابت ماہ مئی 1956 ء کے صفحہ 87 پر چھپا ہے اور اخبار ”ٹائمنر سٹارسن سینٹی“ سے نقل کیا گیا ہے۔پروفیسر صاحب جو ایک بہت مشہور سائنس دان اور پیدائش خلق کے مضمون کے ماہر سمجھے جاتے ہیں فرماتے ہیں: یہ خیال کہ زندگی کا آغاز محض کسی اتفاقی حادثہ کے نتیجہ میں ہوا ہے بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ دعوی کرے کہ لغت کی ایک مکمل کتاب کسی چھاپہ خانہ کے اتفاقی دھماکے کے نتیجہ میں خود بخود چھپ گئی تھی۔ناظرین ملاحظہ کریں کہ کس طرح عرب کے قدیم ناخواندہ بدوی اور امریکہ کے جدید تعلیم یافتہ سائنس