مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 571 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 571

مضامین بشیر جلد سوم بخرام که وقت تو نزدیک رسید و پائے محمد یاں برمنار بلند تر محکم افتاد (تذکره) 571 خدا کرے کہ وہ دن جلد آئے کہ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس روح خدا کے حضور یہ مژدہ پیش کر سکے کہ تیرے ایک بندے اور میرے ایک نائب کے ذریعہ اسلام کا جھنڈا دنیا میں سب سے اونچا لہرا رہا ہے۔وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ( محرره 20 فروری 1959ء) روزنامه الفضل ربوه 27 فروری 1959 ء) رمضان کی جامع برکات اور ہماری ذمہ داریاں میں خدا کے فضل سے مختلف رمضانوں میں اس مبارک مہینہ کے مسائل اور اس کی برکات کی طرف دوستوں کو توجہ دلاتا رہا ہوں۔غالباً میرے ان مضامین کی تعداد میں تک پہنچ گئی ہوگی یا شاید اس سے بھی زیادہ ہو۔ان میں سے بعض مضامین تو کافی مفصل ہوتے رہے ہیں اور بعض اوسط درجہ کے تھے اور بعض صرف یاد دہانی کا رنگ رکھتے تھے۔اور یہ امر میرے لئے خوشی کا موجب ہے بلکہ میں اسے اپنی خوش قسمتی خیال کرتا ہوں اور اس پر اپنے مولا کا شکر گزار ہوں کہ میرے ان مضمونوں سے بہت سے دوستوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔چونکہ اب بھی رمضان کا مہینہ بہت قریب آگیا ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ بالکل سر پر ہے (اور شاید اس مضمون کے چھپتے چھپتے شروع بھی ہو جائے ) اس لئے میں اس نوٹ کے ذریعہ جو قریب یاد دہانی کا رنگ رکھتا ہے اپنے بھائیوں اور بہنوں کو اس مہینہ کی برکات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔تا اگر خدا چاہے تو ان کے لئے نیکی کی تحریک اور میرے لئے ثواب کا موجب ہو اور میری اس کمزوری کی تلافی بھی ہو جائے کہ میں اپنی موجودہ علالت میں روزہ رکھنے سے معذور ہوں اور صرف فدیہ پر اکتفا کر کے خدائی مغفرت کا طالب بن رہا ہوں۔گزشتہ تین چار سالوں سے یعنی جب سے مجھے دل کی بیماری ہوئی ہے میرا یہ طریق رہا ہے کہ فدیہ بھی ادا کرتا تھا اور رمضان کے مہینہ میں تین روزے رکھ کر خدا کے اس رحیمانہ قانون سے فائدہ اٹھاتا تھا کہ ہما را آسمانی آ قادس گنا اجر دے کر میرے تین روزوں کا ثواب ایک مہینہ کے برابر کر سکتا ہے۔لیکن اس سال