مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 32 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 32

مضامین بشیر جلد سوم 32 ماتحت ہے کہ اس نے انسان کو صاحب اختیار بنایا ہے کہ چاہے تو ہدایت پر قائم ہو جائے اور چاہے تو گمراہی کا رستہ لے لے۔اسی لئے قرآن شریف نے دوسری جگہ صراحت فرمائی ہے کہ گوگمراہ ہونے والے لوگ بھی خدائی قانون کے ماتحت ہی گمراہ ہوتے ہیں مگر ان کے گمراہ ہونے کی ذمہ داری خودان پر ہے کیونکہ صرف وہی لوگ گمراہ ہوتے ہیں جو خود دیدہ دانستہ بدی کا رستہ اختیار کرتے ہیں۔بہر حال یہ غیر معمولی حقیقت کہ قرآن شریف میں بارہ (12) جگہ خلافت کا ذکر آیا ہے اور ان سب میں بلا استثناء خدا تعالیٰ نے ہر قسم کی خلافت کو خود اپنی طرف منسوب کیا ہے اس بات کا قطعی اور یقینی ثبوت ہے کہ خلیفہ گری کی تاریں صرف خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اور انسان اس میدان میں ایک آلہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔دوسرا نمبر حدیث کا ہے سو وہ بھی قرآن کی طرح اس بات کی برملا شہادت دے رہی ہے کہ خلیفہ خدا تعالیٰ بناتا ہے۔میں اس جگہ صرف دو حوالوں پر اکتفا کروں گا۔بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت آتی ہے کہ قَالَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَرْضِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أُرْسِلَ إِلى أَبِي بَكْرٍ حَتى أَكْتُبَ كِتَابًا فَأَعْهَدَ أَنْ يَتَمَنَّى الْمُتَمَنُّونَ وَ يَقَوْلُ قَائِلُ أَنَا أَوْلَىٰ غَمٍ قُلْتُ يَأْبَى اللَّهُ وَيَدْفَعُ الْمُؤْمِنُونَ (بخاری، کتاب الاحکام، باب الاستخلاف) یعنی حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرض موت میں مجھ سے فرمایا کہ میں نے ارادہ کیا تھا کہ ابو بکر کو بلا کر ان کے حق میں خلافت کی تحریر لکھ جاؤں تا کہ میرے بعد دوسرے لوگ خلافت کی تمنا میں کھڑے نہ ہو جائیں اور کوئی کہنے والا یہ نہ کہے کہ میں ابو بکر کی نسبت زیادہ حقدار ہوں۔مگر پھر میں نے اس خیال سے یہ ارادہ ترک کر دیا کہ خدا تعالیٰ ابوبکر کے سواکسی اور شخص کی خلافت پر راضی نہ ہوگا اور نہ ہی مومنوں کی جماعت کسی اور کو قبول کرے گی۔یہ لطیف حدیث اسلامی خلافت کے فلسفہ کا حقیقی نچوڑ پیش کرتی ہے۔کیونکہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ گو بظاہر ایک غیر مامورخلیفہ کا انتخاب لوگ کرتے ہیں مگر در حقیقت اس کے انتخاب میں خدا تعالیٰ کی تقدیر کام کر رہی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ اپنے خاص الخاص تصرف سے لوگوں کے دلوں اور ان کی زبانوں کو خلافت کے اہل شخص کی طرف مائل کر دیتا ہے۔گویا آجکل کی سیاسی اصطلاح کے مطابق کہہ سکتے ہیں کہ اس معاملہ میں خدا تعالیٰ پس پردہ رہ کر اپنی مخفی تاروں کے ذریعہ وائر پگر (Wirepuller) کا کام