مضامین بشیر (جلد 3) — Page 499
مضامین بشیر جلد سوم 499 یعنی سچے مومنوں کو لغویات میں الجھنے سے پر ہیز کرنا چاہئے۔اور دوسری جگہ قرآن فرماتا ہے وَّاذَا خَاطَبَهُمُ الْجَهِلُونَ قَالُوا سَلَمًا (الفرقان (64) یعنی جب کوئی شخص کسی مومن کو جہالت کے خطاب سے مخاطب کرے جس میں کوئی سنجیدگی یا خیر کی بات نہ ہو تو اس کے جواب میں سلام کہہ کر الگ ہو جانا چاہئے۔البتہ اسلم پرویز صاحب نے بعض باتیں ایسی لکھی ہیں جن کے متعلق غیرت کا تقاضا ہے کہ ان کی حقیقت ظاہر کی جائے۔یا وہ ایسی باتیں ہیں کہ ان کے متعلق نا واقف لوگوں میں غلط فہمی پیدا ہونے کا امکان ہے جو دور ہونی چاہئے۔سب سے پہلی بات اسلم پرویز صاحب نے یہ کہی ہے کہ میرے مضمون میں تضاد پایا جاتا ہے۔یعنی ایک طرف تو میں جماعت کے ایک حصہ کی کمزوریاں گنا تا ہوں اور انہیں اصلاح کی تلقین کرتا ہوں اور دوسری طرف یہ لکھتا ہوں کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کی قیادت میں جماعت نے وسعت اور کثرت وغیرہ کے لحاظ سے غیر معمولی ترقی کی ہے۔اور اسلم پرویز صاحب کے نزدیک یہ دونوں باتیں متضاد ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ اسلم پرویز نے ایم۔اے تو پاس کر لیا مگر وہ اتنی معمولی سی بات بھی نہیں سمجھ سکتے کہ جماعت کے ایک حصہ میں (میں نے اس تعلق میں خصوصیت کے ساتھ نسلی احمدیوں کے نوجوان طبقہ کا ذکر کیا تھا اور ” ایک حصہ کا لفظ بھی نمایاں طور پر لکھا تھا ) بعض کمزوریوں کا پایا جانا بالکل اور شے ہے اور بحیثیت مجموعی تعداد کی ترقی اور تبلیغی مساعی میں ترقی اور مالی قربانی میں ترقی اور کثیر حصہ کے اخلاص میں ترقی بالکل اور چیز ہے۔اسے سمجھنے کے لئے صرف اس بات کا دیکھنا کافی ہے کہ جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایده اللہ خلیفہ بنے تو اس وقت خود غیر مبایعین کے دعوے کے مطابق جماعت کا پچانوے فیصدی حصہ غیر مبائعیین کے ساتھ تھا۔مگر اب وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ جماعت کی بھاری اکثریت ان کے خلاف اور مبایعین کے ساتھ ہے۔اور چندوں کا یہ حال ہے کہ جب جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے قادیان چھوڑ کر لاہور آگئے تو اس وقت انجمن کے خزانے میں صرف چند گنتی کے روپے تھے۔مگر اب خدا کے فضل سے جماعت کا مجموعی بجٹ پچیس لاکھ روپے سے اوپر ہوتا ہے اور ہماری بیرونی تبلیغ کی وسعت تو ظاہر وعیاں ہے کہ قریباً ساری آزاد دنیا میں تبلیغ اسلام کا ایک نہایت وسیع سلسلہ جاری ہے۔پس میری طرف سے جماعت کے کمزور حصہ کو اصلاح کی طرف توجہ دلانا جماعت کی بحیثیت مجموعی ترقی کے ہرگز ہرگز خلاف نہیں۔اور غالباً اسلم پرویز کے سوا کوئی ہوش و حواس رکھنے والا انسان ان دونوں باتوں کو متضاد خیال نہیں کر سکتا۔اس لئے میں اسلم صاحب کے متعلق یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ بریں عقل و دانش باید گریست۔کاش پیغام صلح کے ایڈیٹر صاحب ہی