مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 493 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 493

مضامین بشیر جلد سوم 493 إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کو چھوڑ کر کوئی اور کلمہ بنا رکھا ہے۔یا یہ حاشا و کلا جماعت احمد یہ خدا کے رسولوں اور دوسرے پاک لوگوں کی ہتک کرتی ہے۔یا یہ کہ جماعت کا موجودہ مرکز ربوہ گویا ایک ممنوعہ بستی ہے جس میں کسی غیر کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔یا یہ کہ جماعت نے ایک لایعنی تنظیم قائم کر رکھی ہے جو حقیقتا مملکت اندر مملکت کا رنگ رکھتی ہے۔یا یہ کہ جماعتی تنظیم کے توڑنے والوں کو ایسی سزائیں دی جاتی ہیں جو اسلامی تعلیم اور انسانی حقوق کے منافی ہیں وغیرہ وغیرہ۔یہ سب باتیں جماعت کی طرف سے بار بار تردید کئے جانے کے باوجود ہمارے خلاف نہایت ڈھٹائی کے ساتھ دہرائی جا رہی ہیں۔اس لئے ضرورت ہے کہ جماعت کے تمام مربی اور معلم اور مقامی امراء اور ضلعوا امراء اور دیگر ذمہ دارا حباب بلکہ تمام دوست اس بات کا عہد کریں کہ وہ اس سال بیش از پیش توجہ اور وضاحت اور تعین اور تکرار کے ساتھ ان غلط فہمیوں کو دور کر کے جماعت کی مخالفانہ فضاء کو صاف کرنے کی کوشش کریں گے۔اور جب اس مکدر فضاء کے بادل چھٹیں گے تو طبعا صداقت کا آفتاب زیادہ نمایاں ہو کر نظر آنے لگے گا۔(ب) موجودہ کمزوری کو دور کرنے اور موجودہ خطرات کا سد باب کرنے کا دوسرا مؤثر طریق یہ ہے کہ خاص جد و جہد کے ساتھ جماعت احمدیہ کے محاسن اور جماعت کی اسلامی خدمات اور جماعت کے مخصوص نظریات اور عقائد کی درستی کو پختہ دلائل اور روشن براہین کے ذریعہ لوگوں پر ثابت کیا جائے۔یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ لوگ کسی صداقت سے صرف اس وقت تک دور رہتے ہیں جب تک کہ ان تک یا تو صداقت کا پیغام پہنچتا ہی نہیں اور یا پہنچتا تو ہے مگر ایسے کمزور اور بے اثر رنگ میں پہنچتا ہے کہ ان پر صداقت کی حقیقت اور اہمیت اچھی طرح واضح نہیں ہوتی۔اسی لئے قرآن مجید فرماتا ہے کہ: أدْعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمُ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل: 126) یعنی لوگوں کو خدا کے رستے کی طرف ایسے رنگ میں بلاؤ کہ وہ پختہ دلائل اور خشیتہ اللہ کی اپیل سے معمور ہو اور اگر کبھی حق کی دعوت میں منکروں کے ساتھ تبادلہ خیال کرنا پڑے تو اس کام کو بہترین صورت اور دلکش رنگ میں انجام دو۔اوپر کے بیان میں فقرہ الف تو منفی نوعیت کا ہے جس سے مراد جماعت احمدیہ کے متعلق ان غلط فہمیوں کا ازالہ ہے جو حق کی شناخت میں روک بن رہی ہیں۔اور فقرہ بے مثبت نوعیت کا ہے جس سے احمدیت کی دلکش تعلیم اور اس کی بے نظیر اسلامی خدمات کو احسن طریق پر پیش کرنا مراد ہے۔تا کہ جہاں ایک طرف لوگوں