مضامین بشیر (جلد 3) — Page 476
476 مضامین بشیر جلد سوم حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا حافظ و ناصر ہو اور حضور کے سایہ عاطفت میں جماعت کے نو جوانوں کو توفیق دے کہ وہ مرنے والے بزرگوں اور مجاہدوں کی جگہ لینے اور خدمت دین کے میدان میں آگے سے آگے قدم بڑھا کر جماعت میں ہر امکانی خلا کو روکنے کے لئے کامیاب جد و جہد کر سکیں۔اللهم آمين میں نے اپنے پہلے نوٹ میں ذکر کیا تھا کہ خادم صاحب مرحوم کی عمر غالبا پچاس سال سے کم ہو گی مگر اس کے بعد تدفین کے وقت معلوم ہوا کہ ان کی عمر صرف سنتالیس (47) سال تھی۔اس وقت مجھے اچانک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام یاد آیا کہ: سنتالیس (47) سال کی عمر میں کفن میں لپیٹا گیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم ومغفور کی وفات کے قریب ہوا تھا۔اور اس الہام کا پہلا مصداق حضرت مولوی صاحب کی ذات والا صفات ہی تھی۔لیکن چونکہ بعض اوقات خدائی کلام میں تنوع ہوتا ہے اور ایک ہی الہام میں متعدد واقعات کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔اس لئے اس الہام کا دوسرا جلوہ قریباً پچیس سال بعد حضرت حافظ روشن علی صاحب مرحوم کی وفات میں نظر آیا۔کیونکہ حضرت حافظ صاحب مرحوم بھی سنتالیس کی عمر میں فوت ہوئے تھے۔اور اب قریباً مزید اٹھا ئیں سال بعد ملک عبد الرحمن صاحب خادم بھی سنتالیس سال کی عمر میں فوت ہوئے ہیں۔اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ تبلیغ حق کے میدان میں ان تینوں اصحاب کا اندازہ بھی کم و بیش ایک جیسا ہی تھا۔یعنی وہی غیر معمولی جوش و خروش، وہی تیغ عریاں کا رنگ، وہی بلا خوف لامةَ لائِم اظہارحق کا انداز مگر جواول ہے وہ اول ہے۔اس جگہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جو آخری خط مجھے خادم صاحب مرحوم کا لاہور سے موصول ہوا وہ دعاؤں کی تحریک اور ذکر خیر کی غرض سے ذیل میں درج کر دیا جائے۔خادم صاحب اپنے آخری خط محررہ 14 دسمبر 1947 ء میں لکھتے ہیں: بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلى على رسوله الكريم میوہسپتال A۔V۔H کمرہ نمبر 5لاہور مؤرخہ 57-12-14 محترم و مکرم ومخدومی حضرت میاں صاحب سَلَّمَكُمُ اللَّهُ تَعَالَى وايد السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ