مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 474 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 474

مضامین بشیر جلد سوم 474 سیٹھ اسمعیل آدم صاحب نے کراچی میں وفات پائی۔سیٹھ صاحب مرحوم بہت مخلص اور ٹھوس اخلاص والے بزرگ تھے۔جنہوں نے اوائل زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کیا اور پھر سارا زمانہ بڑی وفاداری اور محبت اور اخلاص اور نیکی میں گزارا۔اس کے بعد مین جلسہ کے ایام میں محترم شیخ عبدالحق صاحب سابق نائب ناظر ضیافت کی وفات ہوئی۔شیخ صاحب مرحوم ضلع گورداسپور کے رہنے والے تھے اور بہت مخلص اور فدائی رنگ میں رنگین محبت کرنے والے بزرگ تھے۔جن کے ذریعہ ضلع گورداسپور میں کثیر التعداد لوگ احمدیت کے نور سے منور ہوئے۔اور اب سال کے آخری دن میں ہمیں محترم خادم صاحب نے داغ جدائی دیا ہے۔كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ O وَّ يَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَلِ وَالْإِكْرَام (الرحمن: 27-28) اس جگہ مجھے دلی افسوس کے ساتھ اپنی ایک فروگزاشت کا ذکر کرنا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ جو نوٹ میں نے حضرت عرفانی صاحب کی وفات پر لکھا تھا اس میں ایک محترم بزرگ حضرت مولوی علی احمد صاحب بھاگلپوری کا ذکر کرنا بھول گیا۔حضرت مولوی صاحب مرحوم بھی سلسلہ کے قدیم بزرگوں میں سے تھے۔اور نہایت درجہ مخلص اور نیک ہونے کے علاوہ بہت صابر اور شاکر بزرگ تھے۔جنہوں نے ابتدائی زمانہ میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قبول کیا۔اور پھر اس روحانی تعلق کو آخر تک بڑی وفاداری کے ساتھ نبھایا اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے اخلاص کو اس رنگ میں نوازا کہ اولاً حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ایک عزیز خاتون حضرت سیدہ ام رفیع احمد مرحومہ کو اپنی رفیقہ حیات کے طور پر چنا۔اور اس کے بعد حضرت مولوی صاحب مرحوم کے فرزند عزیز میاں عبدالرحیم احمد کو اپنی دامادی میں قبول کیا۔اللہ تعالیٰ ان سب مرنے والے بزرگوں اور دوستوں کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے اور جماعت کے نوجوانوں کو ان کا علمی اور روحانی ورثہ عطا فرمائے تا کہ جماعت میں کسی قسم کا رخنہ نہ پیدا ہونے پائے۔1957ء میں جماعت میں طبعی طریق پر موتیں تو بہت سے دوستوں کی ہوئی ہیں۔مگر یہ آٹھ اموات جن کا میں نے حضرت عرفانی والے نوٹ اور پھر موجودہ نوٹ میں ذکر کیا ہے۔ایسی موتیں ہیں کہ اگر ان کی وجہ سے اس سال کو عام الحزن کہا جائے تو بے جانہ ہو گا۔دعا کے خیال سے میں ان بزرگوں کے نام پھر دہراتا ہوں تا کہ دوست ان کا روحانی ورثہ پانے کی طرف متوجہ رہیں اور ان کے لئے اور ان کے پسماندگان کے لئے دعائیں بھی کریں۔یقیناً جو شخص اپنے بزرگوں کو دعاؤں میں یادرکھتا اور ان کے نقش قدم پر چلتا ہے اور ان کی وفات کی وجہ سے کوئی خلا نہیں پیدا ہونے دیتا وہ نہ صرف اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت کا وارث بنتا ہے