مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 26 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 26

مضامین بشیر جلد سوم 26 لاکھوں انسان موجود ہوتے ہیں جن کی مصیبت اس سے بھی زیادہ سخت ہوتی ہے۔علاوہ ازیں اگر انسان اپنے آسمانی آقا کی تقدیر پر صبر و شکر نہیں کرے گا تو اور کس پر کرے گا؟ ہر انسان کے سر پر خدا کی نعمتوں اور اس کی شیر میں تقدیروں کا اتنا بھاری بوجھ ہے کہ اس کی کسی تلخ تقدیر پر چیں بجبیں ہونا انتہا درجہ کی بے وفائی اور غداری سے کم نہیں۔جس ہاتھ سے انسان نے ہزاروں میٹھی قاشیں کھائی ہوں۔اس ہاتھ سے کبھی کبھی کسی کڑوی قاش کا کھانا کسی شریف اور با اخلاق انسان پر ہرگز گراں نہیں ہونا چاہئے۔لیکن حق یہ ہے کہ خدا پر راضی رہنے کی بنیاد صرف اس بات پر قائم نہیں ہے کہ ہم پر اس کے بے شمار احسان ہیں بلکہ زیادہ تر اس حقیقت پر مبنی ہے کہ جہاں ہر راحت اور ہر رحمت خدا کی طرف سے ہے۔وہاں ہر تکلیف جو کسی انسان پر آتی ہے۔وہ دراصل اس کی اپنی ہی غلطیوں کا نتیجہ ہوتی ہے اور اپنی غلطی کی وجہ سے خدا پر ناراض ہونا اول درجہ کی بے وفائی ہی نہیں بلکہ اول درجہ کی بے وقوفی بھی ہے۔قرآن شریف نے کیا خوب فرمایا ہے کہ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللهِ فَمَال هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا مَا أَصَابَكَ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللهِ وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ ، وَأَرْسَلْنَكَ لِلنَّاسِ ط رَسُولاً (النساء: 79 تا 80) یعنی اے رسول! تو لوگوں سے کہہ دے کہ اس لحاظ سے کہ ہر قانون خدا کا بنایا ہوا ہے۔تقدیر خیر اور تقدیر شر دونوں خدا کی طرف سے ہیں۔مگر افسوس کہ یہ لوگ سمجھتے نہیں۔لیکن اس لحاظ سے کہ اس قانون کو حرکت میں لانے والے موجبات کیا ہیں۔جو تقدیر خیر تجھے پہنچتی ہے۔وہ حقیقتا خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔اور جو تقدیر شر تجھ پر وارد ہوتی ہے۔وہ تیرے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے اور اے رسول! ہم نے تجھے لوگوں کے غلط خیالات کی اصلاح کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے۔اس جگہ کوئی جلد باز شخص خیال کر سکتا ہے کہ جس طرح بُرے اعمال کے بُرے نتائج کی ذمہ داری انسان پر ڈالی گئی ہے۔اسی طرح کیوں اچھے اعمال کے اچھے نتائج بھی اس کی طرف منسوب نہیں کئے گئے۔جبکہ بظاہر ہر دو قسم کے اعمال میں نیت اور عمل انسان کے اپنے ہوتے ہیں؟ سواس کا جواب خود قرآن شریف دیتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ، وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى إِلَّا مِثْلَهَا (الانعام: 161)۔۔۔۔۔۔و يَعْفُوا عَنْ كَثِيرِ (المائده:16) یعنی اگر کوئی شخص اچھا عمل کرتا ہے تو ہم اسے اس کے عمل کا دس گنا ثواب دیتے ہیں۔اور اگر کوئی شخص