مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 386 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 386

مضامین بشیر جلد سوم 386 حضرت خلیفہ اول کے بلند مقام اور آپ کی ارفع شان خلافت حقہ کی پوری طرح قائل اور معترف ہے۔میرا یہ شائع شدہ مضمون گو مجمل اور مختصر ہے مگر میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ صاف دل لوگوں کے لئے انشاءاللہ تسلی کا موجب ہوگا۔اس کے بعد ذیل کے مختصر نوٹ میں دوسرے اعتراض کا جواب دیا جاتا ہے۔جو حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے خلاف اس طرح کے بہتان عظیم کا رنگ رکھتا ہے جو پہلے اعتراض میں مضمر ہے۔لیکن اصل اعتراض کا جواب دینے سے قبل ایک اصولی بات کا بیان کر دینا ضروری ہے جو اسلامی نظامِ خلافت اور مسئلہ خلافت کے فلسفہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔کیونکہ اس کے بغیر اس اعتراض کا جواب پوری طرح سمجھ میں نہیں آسکتا۔سو جاننا چاہئے کہ جیسا کہ ہماری طرف سے بار بار اظہار کیا جا چکا ہے کہ قرآن وحدیث اور ارشادات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روشنی میں جماعت مبائعین کا یہ قطعی عقیدہ اور پختہ ایمان ہے کہ گو بظاہر خلیفہ کا انتخاب مومنوں کی رائے سے ہوتا ہے مگر دراصل اس معاملہ میں تقدیر خدا کی چلتی ہے جو مومنوں کے دلوں پر تصرف فرما کر خلافت کے اہل شخص کی طرف مائل کر دیتا ہے۔اس لئے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جہاں جہاں بھی خلافت کا ذکر کیا ہے (اور یہ ذکر بارہ جگہ پر آتا ہے ) وہاں لازماً بلا استثناء خلافت کے نظام کو اپنی خاص مشیت کی طرف منسوب فرمایا ہے اور ہر جگہ صراحت فرمائی ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور یہی صراحت بدرجہ اتم سورہ نور کی آیت استخلاف میں درج ہے۔جہاں خدا تعالیٰ مسلمانوں کے ساتھ اس قسم کی خلافت کا وعدہ فرماتا ہے جس طرح کہ ان سے پہلے بنی اسرائیل میں قائم کی گئی تھی۔الغرض ہمارے عقیدہ کے مطابق خلافت ایک بڑا عجیب و غریب نظام ہے جس میں بظاہر مومنوں کی زبان چلتی ہے مگر حقیقتا تقدیر خدا کی کام کرتی ہے۔اسی کی طرف بخاری کی یہ صیح حدیث اشارہ کرتی ہے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرض الموت میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : يَابَى اللَّهُ وَ يَدْفَعُ الْمُؤْمِنُونَ ( صحیح بخاری کتاب المرضى ) یعنی میرے بعد خدا تعالیٰ ابو بکر کے سوا کسی اور کی خلافت پر راضی نہیں ہوگا اور نہ ہی مومنوں کی جماعت کسی اور کے ہاتھ پر جمع ہوگی۔یہ لطیف حدیث جس میں خلافت کا ایک عجیب و غریب نظر یہ بیان کیا گیا ہے اسلامی خلافت کے فلسفہ کی جان ہے اور اس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسالہ ”الوصیت“ کے ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے کہ: