مضامین بشیر (جلد 3) — Page 351
مضامین بشیر جلد سوم 351 میں خدا سے عہد کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کے ساتھ ہو اور ہمیں اپنی حفاظت اور نصرت سے نوازتے ہوئے اس مقام تک پہنچا دے جو اس کی رضا اور ہماری روحانی بقا کا مقام ہے۔وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ ( محررہ 27 اپریل 1956ء ) روزنامه الفضل ربوه 2 مئی 1956ء) (12) کیا غیر مسلموں کی دعا ئیں بھی قبول ہو سکتی ہیں؟ دعائیں کیا دوسری قو میں بھی خدائی نشانوں کا مظہر بن سکتی ہیں؟ ایک دوست نے ایک خط کے ذریعہ ایک سوال لکھ کر مجھ سے اس سوال کا جواب مانگا ہے۔سوال یہ ہے کہ امریکہ کے مشہور و معروف رسالہ ریڈرز ڈائجسٹ“ کے جنوری نمبر میں ایک مضمون شائع ہوا ہے۔جس میں فرانس اور سپین کی سرحد پر واقع ایک چشمہ لورڈز نامی کے بعض غیر معمولی واقعات درج ہیں۔کہا جاتا ہے کہ اس چشمہ پر عیسائی لوگ دور دراز علاقوں سے آکر پادریوں کی دعاؤں کے ساتھ غسل کرتے اور مختلف قسم کی بیماریوں سے شفا پاتے ہیں اور بہت سے مریض شفایاب نہیں بھی ہوتے مگر دعوی کیا جاتا ہے کہ شفا پانے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ نہ صرف پادریوں کی ایک معقول تعداد بلکہ ماہر ڈاکٹروں اور سائنس دانوں کی ایک معتد بہ جماعت بھی ان واقعات کی تصدیق کرتی ہے۔اس مضمون کی طرف توجہ دلانے کے بعد ہمارے یہ دوست دریافت کرتے ہیں کہ جب ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس زمانہ میں اسلام ہی خدا کی طرف سے سچاند ہب ہے اور مسلمان ہی خدائی نشانوں کے مظہر ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ عیسائیوں اور دوسری قوموں میں بھی قبولیت دعا اور رحمت الہی کے نزول کے واقعات پائے جاتے ہیں۔اس طرح تو اسلام کی صداقت اور اس کی امتیازی علامت مشکوک ہو جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔یہ وہ سوال ہے جو ہمارے اس دوست نے کیا ہے مگر چونکہ اس سوال کا تفصیلی جواب زیادہ فرصت اور زیادہ صحت چاہتا ہے اور میں آج کل اچھی صحت سے محروم ہوں۔اس لئے میں اس جگہ اس سوال کے تاریخی پہلو کی چھان بین سے قطع نظر کرتے ہوئے نہایت اختصار اور اجمال کے ساتھ دو ایک اصولی باتیں لکھنے پر اکتفا