مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 12 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 12

مضامین بشیر جلد سوم 12 میں اپنی رائے کو دلائل اور براہین کے ذریعہ غلبہ دینے کی کوشش کریں۔لیکن ایسے اختلاف کی صورت میں بھی صحیح طریق یہ ہے کہ صرف اصولی اور غیر معمولی اختلاف کی صورت میں ہی علیحدہ پارٹی بنائی جاتی ہے۔ورنہ بڑی پارٹی کی چاردیواری کے اندر ہی ایک ضمنی پارٹی بنا کر جسے انگریزی میں’ونگ (WING) کہتے ہیں، اصلاحی کام شروع کر دیا جاتا ہے۔اس قسم کے طبعی طریق میں ذاتی رنجشیں نہیں پیدا ہوتیں اور نہ ہی شخصیتوں کا نا گوارسوال اٹھتا ہے۔بلکہ اختلاف رائے کو اصول کی حد تک محدود رکھ کر ہر پارٹی اپنے اصلاحی پروگرام کے مطابق کام شروع کر دیتی ہے اور تا وقتیکہ رائے عامہ میں کوئی تبدیلی آئے۔حکومت بہر حال اس پارٹی کی رہتی ہے جسے رائے عامہ میں غلبہ حاصل ہوتا ہے۔لیکن افسوس ہے کہ ابھی تک پاکستان میں اکثر اختلافات اصول پر مبنی ہونے کی بجائے زیادہ تر شخصیتوں اور ذاتی وجاہتوں اور ذاتی رنجشوں کی جھاڑیوں میں الجھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ایسا اختلاف برکت اور رحمت اور نیک نتائج کا باعث نہیں بن سکتا۔اول تو ضروری تھا کہ کم از کم پاکستان کی عمر کے چند ابتدائی سالوں میں انتہائی کوشش اور قربانی کی روح کے ساتھ ہر اختلاف کو دبا کر اتحاد اور متحدہ جد و جہد کا منظر پیش کیا جاتا۔تا کہ ابتدائی استحکام کا کام خوش اسلوبی سے سرانجام پاسکتا لیکن اگر بد قسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا تو کم از کم یہ تو ہوتا کہ ذاتی رنجشیں نکالنے اور ایک دوسرے کے خلاف ذاتی حملے کرنے کی بجائے اپنے اختلافات کو اصول کی حد کے اندر رکھا جاتا۔کیونکہ اس صورت میں بھی گو پالیسی مختلف ہوتی۔مگر بہر حال اکثریت اور اقلیت دونوں کی طاقت بحیثیت مجموعی ملک کی بہتری کے لئے وقف رہتی۔بدقسمتی سے یا حالات کی مجبوری سے حکومت کے صدر کو مرکزی لیگ کی صدارت بھی قبول کرنی پڑی۔اس کی باریکیوں میں جانے کی ضرورت نہیں مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ حالات پیش آمدہ میں یہ قدم چنداں دانشمندی کا قدم نہیں تھا۔پالیسی کے اتحاد کے باوجود پارٹی اور حکومت کے ارکان کے علیحدہ علیحدہ رہنے میں کئی طرح کے فوائد سمجھے جاتے ہیں۔اور جمہوری حکومتوں میں عموماً یہی ہوتا ہے کہ برسراقتدار پارٹی کے ارکان ، حکومت کے عہدوں سے الگ رہتے ہیں اور جو لوگ حکومت کے عہدے قبول کریں وہ پارٹی کے عہدوں سے دستکش ہو جاتے ہیں۔مگر افسوس ہے کہ یہاں ایسا نہیں ہوا اور یہ بات اختلاف کی خلیج کو بڑھانے کا بہانہ بن گئی۔لیکن پھر بھی موجودہ حزب مخالف کی پالیسی میں ایسا اصولی اختلاف ہرگز نہیں تھا کہ موجودہ نازک وقت میں علیحدہ پارٹی کا قیام ضروری سمجھا جاتا مگر بد قسمتی سے ذاتی رنجشوں اور شخصیتوں کے سوال نے اس خلیج کو وسیع سے وسیع تر کر دیا اور (خدا محفوظ رکھے ) ڈر ہے کہ آنے والے انتخابات نے اس میدان کے لئے اور بھی زیادہ