مضامین بشیر (جلد 3) — Page 308
مضامین بشیر جلد سوم 308 جوان سالہ لڑکے کی وفات ان ایام میں ہوئی جب حضرت صاحب پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔وہ اس کا جنازہ لاہور سے ربوہ لا رہے تھے کہ ایک عزیز نے جسے اس کی وفات کا علم نہیں تھا۔ان سے بچہ کی خیریت پوچھی۔مولوی صاحب نے جواب میں کہا پہلے حضرت صاحب کی خیریت بتاؤ اور جب یہ معلوم ہوا کہ حضور خیریت سے ہیں تو بلند آواز سے الحمد للہ کہا اور اس کے بعد پوچھنے والے کو بتایا کہ بچہ کا جنازہ لا رہا ہوں۔مولوی صاحب مرحوم شروع میں تعلیم الاسلام ہائی سکول میں ٹیچر رہے اور کچھ عرصہ بعد جب نظارتیں بنیں تو حضرت صاحب نے انہیں ناظر بیت المال مقرر فرما دیا۔جس کام کو انہوں نے بڑی سرگرمی اور توجہ کے ساتھ نبھایا اور اس کے بعد کئی سال تک ناظر دعوۃ و تبلیغ بھی رہے اور انجمن کی طرف سے ریٹائر ہونے پر کچھ عرصہ تحریک جدید میں بھی کام کیا۔طبیعت بہت نرم پائی تھی اور کسی کی دکھ کی داستان سن کر فوراً دل پسیج جاتا تھا اور ایسے موقعوں پر بعض اوقات اتنی نرمی کر بیٹھتے تھے جو ظم و ضبط کے لحاظ سے درست نہیں سمجھی جاتی تھی۔مگر یہ کمزوری بھی ان کی شرافت اور رحم دلی کا نتیجہ تھی۔مزاج میں تصوف کا رنگ تھا اور اردو اور فارسی ادب کے ساتھ بھی اچھا شغف تھا اور اردو کے بہت سے شعراء کا کلام یاد تھا۔مزاج میں بہت سادگی تھی اور دوست نواز بھی تھے۔میں جب بھی ان کے مکان پر جاتا۔تو بڑی محبت سے مہمان نوازی کا حق ادا کرتے۔الغرض خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں۔حیدر آباد دکن کے نواب اکبر یار جنگ صاحب، مولوی صاحب مرحوم کے قریبی عزیزوں میں سے ہیں۔مولوی صاحب نے اپنے پیچھے ایک لڑکا عزیز عبدالمنان خان اپنی یادگار چھوڑا ہے۔یا ان کی مرحومہ لڑکی کی ایک خوردسالہ بچی ہے۔اللہ تعالیٰ مولوی صاحب کو غریق رحمت کرے اور ان کی اہلیہ اور بچے اور نواسی کا حافظ و ناصر ہو۔ان دوستوں کی وفات میں ایک خاص صدمہ کا پہلو یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اور خلافت ثانیہ کے ابتدائی زمانہ میں کام کرنے والے دوست آہستہ آہستہ گزرتے جاتے ہیں اور ہم لوگوں کو جنہوں نے ابتدائی زمانہ یا اس سے ملتا جلتا زمانہ دیکھا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا ہماری مخصوص مجلس خالی ہوتی جا رہی ہے۔بے شک نوجوان کارکنوں میں بھی کئی بہت مخلص اور فدائی کارکن ہیں مگر ہر زمانہ کا اپنا اپنا ماحول ہوتا ہے اور دوسرے ماحول میں انسان وہ روحانی لذت اور سرور نہیں پاتا جو اپنے خاص ماحول میں پاتا ہے۔مگر اس موضوع پر زیادہ لکھنا گویا ایک دکھتی رگ کو چھیڑنا ہے۔اللہ تعالیٰ گزرنے والوں پر فضل و رحمت کی بارش برسائے اور نوجوان کارکنوں کو ان کا سچا وارث بنائے۔آمین۔تا