مضامین بشیر (جلد 3) — Page 273
مضامین بشیر جلد سوم دوستوں کی طرف سے دعاؤں کے خطوط 273 میری حتی الوسع یہ کوشش رہتی ہے کہ ہر دوست کے خط کا جواب دیا جائے کیونکہ ایک تو اس سے خط لکھنے والے کو تسلی ہوتی ہے اور دوسرے اس کے نتیجہ میں جواب دینے والے کو بھی طبعا خط کے مضمون کی طرف زیادہ توجہ رہتی ہے۔لیکن رمضان کے مہینہ میں اور خصوصاً رمضان کے آخری حصہ میں دعاؤں کے خطوط اور تاروں کی اتنی کثرت تھی کہ میں انتہائی خواہش کے باوجود دوستوں کے دعائیہ خطوں اور تاروں کا جواب نہیں بھجوا سکا۔جس کا میرے دل پر بوجھ ہے۔لہذا اس نوٹ کے ذریعہ تمام ایسے دوستوں سے معذرت کرتا ہوا عرض کرتا ہوں کہ اُن کے خطوط اور تار مجھے ملتے رہے ہیں اور میں حسب توفیق ان کے لئے دعا بھی کرتا رہا ہوں۔لیکن افسوس ہے کہ میں اوپر کی معذوری کی وجہ سے ان خطوط اور تاروں کا جواب نہیں دے سکا۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے تمام ایسے دوستوں کے مقاصد کو پورا فرمائے۔بیماروں کو شفایابی نصیب ہو۔بے روزگاروں کو روزگار حاصل ہو۔مقروضوں کو قرض سے نجات ملے۔مقدمات میں ماخوذ دوستوں کو مقدمات میں کامیابی عطا ہو۔بے اولادوں کو اولاد کی نعمت نصیب ہو۔ملازمت میں ترقی کے خواہشمندوں کو ترقی ملے۔امتحان دینے والوں کو امتحان میں کامیابی حاصل ہو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کمزور ایمان اور کمزور عمل کے لوگ پختہ ایمان اور عمل صالح اور تقویٰ اللہ کی نعمت سے نوازے جائیں۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ دوستوں کو یا درکھنا چاہئے کہ بے شک انفرادی دعائیں بھی ضروری ہیں۔حتی کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر کسی کی جوتی کا تسمہ کھویا جائے تو وہ بھی خدا سے مانگے۔لیکن جماعتی دعا ئیں بہر حال انفرادی دعاؤں پر مقدم ہیں۔اس لئے دوستوں کو اس بات کی عادت ڈالنی چاہئے کہ اپنی ہر دعا کے ساتھ لازماً جماعتی دعاؤں اور اسلام اور احمدیت کی ترقی کی دعاؤں کو بھی ضرور شامل کیا کریں۔غالباً اسی مقصد کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ جب کوئی شخص دعا کرنے لگے تو خواہ اس نے کوئی سی دعا کرنی ہو۔سب سے پہلے سورہ فاتحہ کی جماعتی دعا اور اس کے بعد رسول پاک صلے اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا چاہئے اور اس کے بعد کوئی اور دعا کی جائے۔اس چھوٹی سی بات میں ایک عظیم الشان تربیتی نکتہ مضمر ہے۔کاش ہمارے دوست اس حقیقت کو سمجھیں اور اسے اپنے اوپر واجب کر لیں۔( محرره 26 مئی 1955ء) روزنامه الفضل 29 مئی 1955ء)