مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 258 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 258

مضامین بشیر جلد سوم 258 پس دوستوں کو چاہئے کہ رمضان میں خاص طور پر دعاؤں پر زور دیں اور دعاؤں کے لئے اپنے دلوں میں درد اور سوز پیدا کریں اور اس کے ساتھ خدا سے یہ امید بھی رکھیں کہ اگر ہم صحیح طریق پر اور پورے عزم اور استقلال کے ساتھ خدا سے دعا کریں گے تو وہ عِندَ ظَنِّ عَبْدِئ بئی کے وعدہ کے مطابق ہماری دعاؤں کو ضرور قبول کرے گا بشرطیکہ وہ اس کی کسی سنت یا وعدہ کے خلاف نہ ہوں۔کیونکہ بہر حال خدا مخلوق کا آقا اور حاکم ہے، ان کا خادم یا محکوم نہیں ہے اور اپنے مصالح کو بھی وہی بہتر سمجھتا ہے۔(5) رمضان کی پانچویں خاص عبادت صدقہ و خیرات ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ إِنَّ الصَّدَقَةَ تُطْفِئ غَضَبَ الرَّبِّ ) سنن الترندی کتاب الزكاة عن رسول اللہ باب ما جاء في فضل الصدقة ) یعنی صدقہ و خیرات خدا کے غضب کو ٹھنڈے کرنے کا موجب ہوتا ہے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بداعمالی کی وجہ سے خدا کے غضب کو بھڑکاتا ہے اور اس کے بعد تائب ہو کر خدا کے رستہ میں صدقہ و خیرات کرتا ہے تو اس کا یہ صدقہ و خیرات خدا کے غضب کو ٹھنڈا کرنے کا موجب ہو جاتا ہے۔جس کے بعد ایسا شخص اپنے ناراض خدا کو ایک رحیم و شفیق اور رحمن ورحیم آقا کی صورت میں پاتا ہے اور رمضان کے متعلق رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق خاص طور پر ذکر آتا ہے کہ آپ رمضان میں اتنا صدقہ وخیرات کرتے تھے کہ گویا آپ ایک تیز آندھی ہیں جو کسی روک کو خیال میں نہیں لاتی۔اور چونکہ رمضان کا مہینہ غریبوں کی خاص ضروریات کا مہینہ ہوتا ہے۔اسی لئے اس مہینہ میں لازماً صدقہ و خیرات کا ثواب بھی بہت بڑھ جاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔مَنْ كَانَ فِي عَوْنِ أَخِيهِ كَانَ اللهُ فِی عَوْنِهِ یعنی جو شخص اپنے کسی حاجت مند بھائی کی مدد کرتا ہے تو خدا اس مدد کرنے والے کی مدد میں لگ جاتا ہے۔(6) رمضان کی برکات میں سے ایک خاص برکت اعتکاف بھی ہے۔اعتکاف کی عبادت رمضان کے آخری عشرہ میں مسجد میں رہ کر ادا کی جاتی ہے۔یہ گویا ایک قسم کی جزوی اور وقتی رہبانیت ہے جو اسلام نے قلوب کی صفائی اور انقطاع الی اللہ کی غرض سے مقرر کی ہے۔اس میں حوائج ضروریہ کے سوا باقی تمام وقت مسجد میں نماز اور تلاوت قرآن اور ذکر الہی میں گزارا جاتا ہے۔پس جن دوستوں کو موقع ملے وہ رمضان کی اس برکت سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔مگر جو دوست اعتکاف بیٹھیں ان کے لئے ضروری ہے کہ خالصتا خدا کے ہوکر اعتکاف بیٹھیں اور اعتکاف کے دوران میں دنیا کی باتوں اور ہر قسم کے مناقشات اور فضولیات سے پر ہیز کریں۔