مضامین بشیر (جلد 3) — Page 215
مضامین بشیر جلد سوم 215 تیسری بات یہ ہے کہ خواہ استعمال کئے جانے والے آلات جائز ہی ہوں مثلاً ڈھول یا بانسری وغیرہ مگر گانے بجانے میں ایسا انہماک اختیار کیا جائے کہ گویا انسان اسی شوق میں غرق رہے اور اپنا قیمتی وقت اسی مشغلہ میں ضائع کر دے۔اگر اس قسم کی ممنوع باتوں سے اجتناب کیا جائے تو محض خوش الحانی سے گانا یا کسی خاص موقع پر بانسری یا ڈھول کا استعمال کرنا اپنی ذات میں منع نہیں ہے۔چنانچہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی خوش الحانی کے ساتھ اشعار سن لیا کرتے تھے۔بلکہ ایک موقع پر آپ نے اپنے ایک صحابی حضرت موسیٰ اشعری کی دلکش آواز سن کر فرمایا کہ اسے تو گویا حن داؤدی سے حصہ ملا ہے ( یادر ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام نہایت خوش الحان تھے۔بلکہ لکھا ہے کہ جب وہ اپنی بانسری پر حمد کے گیت گاتے تھے تو سننے والوں پر وجد کی سی کیفیت طاری ہو جاتی تھی اور ان کی کتاب زبور بھی دراصل روحانی گیتوں کا ہی مجموعہ ہے ) پھر حدیث سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ بعض اوقات آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں خوشی کے موقع پر صحابہ کی لڑکیاں باہم مل کر ڈھول پر بھی گا بجا لیتی تھیں اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم مسلمان بچیوں کو ایسے معصوم مشغلہ سے جو دھیمی آواز میں چاردیواری کے اندر محدود رہتا تھا منع نہیں فرماتے تھے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں بھی بعض اوقات مخلص لوگ حمد اور مدح کے اشعار خوش الحانی کے ساتھ سناتے تھے اور حضور اسے شوق سے سنتے تھے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اعلان کی غرض سے نہ کہ ریا، یا نمائش کے طریق پر بعض صورتوں میں شادی کے موقع پر باجے کے جواز کا بھی فتویٰ دیا ہے۔اور غالبا گزشتہ صوفیاء میں بھی موسیقی اور سماع کا سلسلہ بھی خاص حالات میں نیک نیتی کے ساتھ ہی شروع ہوا ہوگا جو بعد میں حد اعتدال سے بڑھ گیا یا ممکن ہے بعد میں آنے والے بعض بزرگوں نے عوام الناس کو دینی امور میں متوجہ رکھنے کے لئے یہ طریق اختیار کیا ہو۔بہر حال اگر کسی گزشتہ بزرگ نے اس معاملہ میں حد اعتدال سے کچھ زیادہ حصہ لیا ہے تو ہمیں اس کا معاملہ خدا پر چھوڑ نا چاہئے۔کیونکہ ہمیں کسی فوت شدہ بزرگ کے متعلق بدظنی یا طعن زنی کا حق نہیں ہے۔ہمارے لئے صرف اس قدر جاننا کافی ہے کہ مطلقاً گانا بجانا اپنی ذات میں حرام نہیں۔بلکہ صرف بعض زائد باتوں کی وجہ سے جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے ممنوع قرار پاتا ہے۔لیکن دوسری طرف اس میں بھی شک نہیں کہ چونکہ آجکل موسیقی میں بہت سے نا پسندیدہ عناصر شامل ہو گئے ہیں اور ان باتوں میں انہماک بھی بہت بڑھ گیا ہے اور آجکل کا ماحول بھی بہت خراب ہے۔اس لئے اس زمانہ میں اس کے متعلق یقیناً بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ورنہ خام طبیعت