مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 197 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 197

مضامین بشیر جلد سوم علیہ وسلم فرماتے ہیں۔197 مَا بَيْنَ خَلْقِ ادَمَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ أَمْرٌ أَكْبَرَ مِنَ الدَّجَال (صحیح مسلم کتاب الفتن واشراط الساعة باب في بقية من احادیث الدجال ) یعنی آدم کی پیدائش سے لے کر قیامت تک کوئی فتنہ دجال کے فتنہ سے بڑھ کر نہیں ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے مسیح موعود کے ہاتھ سے دجال کی ہلاکت کی بشارت دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔بَيْنَمَا هُوَ كَذَالِكَ إِذ بَعْتَ اللهُ المسيح ابن مَرْيَمَ فَيُطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكُهُ بَابِ لُةٍ فَيَقْتُلَهُ ( صحیح مسلم کتاب النفن الفتنا داشراط الساعة باب ذکر الدجال وصفته ومامعه ) یعنی دجال اسی طرح اپنے زور کی حالت میں ہوگا کہ خدا تعالیٰ مسیح ابن مریم کو مبعوث کرے گا۔اور وہ دجال کا پیچھا کرے گا۔حتی کہ وہ اسے جھگڑا کرنے والوں کے دروازہ تک پہنچا کر قتل کر دے گا۔اس حدیث میں جو باب لد کے الفاظ بیان ہوئے ہیں ان میں دولطیف اشارے کرنے مقصود ہیں۔ایک یہ کہ مسیح موعود اور دجال کا مقابلہ تلوار کا مقابلہ نہیں ہوگا بلکہ دلائل اور براہین کا مقابلہ ہوگا۔دوسرے یہ کہ اس علمی مقابلہ میں مسیح موعود دجال کو برابر پیچھے دھکیلتا جائے گا۔حتی کہ اسے اس کے دروازہ تک ( یعنی بقول شخصے جھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچا دے گا۔اور وہاں اسے اپنے دلائل اور براہین اور علمی اور روحانی نشانوں کے ذریعہ ہلاک کر دے گا۔اور اس علمی اور روحانی مقابلہ کے ساتھ ساتھ دجال کی ظاہری طاقت بھی نمک کی طرح چھلنی شروع ہو جائے گی۔چنانچہ دوسری جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔إِذَا نَظَرِ إِلَيْهِ الدَّجَالُ ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِى الْمَاء ( کنز العمال جلد نمبر 7 صفحہ 193) یعنی جب دجال مسیح کو دیکھے گا اور اس کا زمانہ پائے گا تو وہ اس طرح پگھلنا شروع ہو جائے گا جس طرح کہ نمک پانی میں پگھلتا ہے۔نمک کی مثال میں یہ لطیف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ جس طرح برسات کے موسم میں نمک مرطوب ہوا کے اثر کے ماتحت پکھلنا شروع ہو جاتا ہے۔اسی طرح جب مسیح موعود کے زمانہ میں آسمانی بارش کا نزول ہوگا اور خدائی فرشتے اپنی روحانی طاقتوں کو حرکت میں لائیں گے۔تو ان غیبی تاثیرات کے نتیجہ میں دجالی طاقتیں خود بخود مٹنی شروع ہو جائیں گی اور آسمان سے ایسی ہوا چلے گی جو دجالی خیالات کے جراثیم کو آہستہ آہستہ ملیا میٹ کر کے رکھ دے گی۔اور شرک اور تثلیث کی جگہ تو حید کا دور دورہ شروع ہو جائے گا۔خلاصہ کلام یہ کہ