مضامین بشیر (جلد 3) — Page 178
مضامین بشیر جلد سوم 178 جواب ہوئی ہے۔کیونکہ میں نے اپنے اس مضمون میں اختصار کے باوجود ایک جگہ بریکٹ کے اندر یہ بات وضاحت کے ساتھ درج کر دی تھی کہ جو خیال میں نے اس جگہ بیان کیا ہے وہ صرف عام حالات سے تعلق رکھتا ہے۔ورنہ مستثنیات کا معاملہ جدا گانہ ہے۔جس کی اس مختصر نوٹ میں گنجائش نہیں۔چنانچہ الفضل مورخہ 15 اکتوبر والے مضمون میں میرے یہ الفاظ تھے کہ سوائے مستثنیات کے جن کے ذکر کی اس جگہ گنجائش نہیں ان مستثنیات میں میرا اشارہ جیسا کہ میں نے اپنی کتاب ”ہمارا خدا میں تصریح کی ہے انبیاء اور اولیاء کے خوارق اور دعاؤں کی قبولیت کی طرف ہی تھا۔چنانچہ کتاب ہمارا خدا‘ایڈیشن دوم کے صفحہ 233 پر یہ عبارت درج ہے۔خوب یا درکھو کہ نیچر اور شریعت ( یعنی قانون نیچر اور قانون شریعت ) دوالگ الگ حکومتیں ہیں اور یہ حکومتیں مہذب سلطنتوں کی طرح ایک دوسرے کے انتظام میں دخل نہیں دیتیں۔سوائے اس کے کہ خدا کی مرکزی حکومت کسی ضرورت کے وقت ایک ملک کی فوج کو دوسرے ملک کی امداد کے لئے جانے کا حکم دے۔جیسا کہ انبیاء اور مرسلین کی بعثت کے وقت جبکہ دنیا کی اصلاح کے لئے آسمان پر خاص جوش ہوتا ہے۔بعض صورتوں میں قانون نیچر کی طاقتوں کو شریعت کی خدمت میں لگا دیا جاتا ہے۔چنانچہ معجزات اور خوارق اسی استثنائی قانون کی قدرت نمائی کا کرشمہ ہوتے ہیں مگر عام قانون یہی ہے کہ قانون نیچر اور قانون شریعت الگ الگ رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے دائرہ میں دخل نہیں دیتے۔اور نہ ایک دوسرے کی خاطر اپنا رستہ چھوڑتے ہیں ( مفصل بحث کے لئے دیکھو ہمارا خدا از 226 تا 241) حق یہ ہے کہ دنیا کی روحانی اور مادی ترقی کے لئے ان دو قانونوں کا عام حالات میں ایک دوسرے سے الگ الگ رہنا ہی مناسب اور ضروری ہے۔ورنہ سارا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔اور مذہب کے میدان میں (جس کے لئے ایک حد تک اخفاء کا پردہ ضروری ہوتا ہے ) اخفاء کا پردہ بالکل اٹھ جاتا ہے۔اور انسان کی نیکی کسی جزا سزا کی مستحق نہیں رہتی۔اور دوسری طرف مادی میدان میں علوم کی ترقی اور خواص الاشیاء کی تحقیق کا رستہ مسدود ہو کر ختم ہو جاتا ہے۔اور ساری بات اس نکتہ پر آجاتی ہے کہ نیکی کرو۔اور تریاق کی تلاش کی بجائے محض نیکی کے نتیجہ میں سنکھیا کے زہر سے بچ جاؤ۔نیکی کرو اور محض نیکی کے ذریعہ ہر قسم کی بیماری کا علاج کرلو۔نیکی کرو اور تیرنا سیکھنے کے بغیر محض نیکی کے زور پر ڈوبنے سے محفوظ ہو جاؤ وغیرہ وغیرہ۔پس معجزات اور خوارق اور دعاؤں کی قبولیت کا قانون بے شک بالکل حق اور درست ہے بلکہ اگر خدائی آیات اور دعاؤں کی