مضامین بشیر (جلد 3) — Page 38
مضامین بشیر جلد سوم 38 علاوہ ازیں ایک مذہبی امام اور روحانی پیشوا نے لوگوں کے لئے محبت اور اخلاص کے جذبات کا مرکز بننا اور ان کے لئے دین کے میدان میں نمونہ پیش کرنا ہوتا ہے۔اس لئے بھی اس کے متعلق عزل کا سوال نہیں اٹھ سکتا۔کیونکہ کوئی انسانی فطرت اس بات کو قبول نہیں کر سکتی کہ مثلاً آج تو اس کی محبت کا مرکز زید کو مقرر کر کے اس کے واسطے زید کو نمونہ قرار دیا جائے اور کل کو زید کی زندگی میں ہی اسے کہا جائے کہ اب تمہارے لئے خالد نمونہ ہو گا۔اور پرسوں خالد سے منہ موڑ کر بکر کو نمونہ بنا دیا جائے۔یقینا دین کے میدان میں یہ ایک کھیل کی صورت بن جائے گی اور اسلام کا خدا کھیل سے بالا ہے۔لیکن اس کے مقابل پر دنیوی لیڈروں کا تقرر چونکہ محض سیاسی مصالح کی بناء پر ہوتا ہے۔ان کے متعلق محبت اور اخلاص کے جذبات کا کوئی سوال نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کے لئے نمونہ بننے کے ضرورت سمجھی جاتی ہے۔اس لئے ان کے معاملہ میں حسب ضرورت عزل کا رستہ اختیار کرنے میں کوئی امر مانع نہیں سمجھا جا سکتا۔اس جگہ یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ خلفاء کے متعلق نمونہ بننے کا پہلو میرا تراشیدہ نہیں ہے بلکہ خود سرور کائنات صلے اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت فرمائی ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَ سُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ (ابوداؤد، کتاب السنۃ ، باب فی لزوم السنة ) یعنی اے مسلمانو ! تم پر میری سنت اور میرے خلفاء کی سنت پر عمل کرنا واجب ہے کیونکہ وہ ٹھیک رستہ پر چلنے والے اور ہدایت یافتہ لوگ ہوں گے۔یہ صحیح حدیث واضح الفاظ میں بتا رہی ہے کہ خلفاء اپنے اپنے وقت میں اپنی جماعت کے لئے نمونہ کا کام دیتے ہیں پس ان کے متعلق عزل کا سوال بالکل خارج از بحث ہے۔حق یہ ہے کہ جیسا کہ میں اوپر اشارہ کر چکا ہوں۔خلافت نبوت ہی کی فرع اور اسی کی شاخ ہے۔قدیم سے اللہ تعالیٰ کی یہ سنت چلی آتی ہے کہ جب وہ دنیا میں کوئی بڑی اصلاح کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے اپنے حکیمانہ انتخاب کے ماتحت کسی نبی کو اپنے الہام کے ذریعہ مبعوث کرتا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے۔اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ (الانعام: 124) لیکن چونکہ بشریت کے لوازمات کے ماتحت نبی کی عمر بہر حال محدود ہوتی ہے اور اصلاح کا کام اور پھر اس کام کا استحکام لمبے عرصہ کا متقاضی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ نبی سے اس کے کام کی تخم ریزی کرا کے اس کی تکمیل کے لئے نبی کے بعد خلافت کا سلسلہ چلاتا ہے۔جب تک کہ خدا کے علم میں اس کام کی تکمیل نہ ہو جائے۔نبوت اور خلافت کا یہ دور ہر نبی