مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 574 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 574

مضامین بشیر جلد سوم نے فرمایا: 574 بہادر وہی نہیں ہے جولڑائی میں اپنے حریف کو پچھاڑ دیتا ہے بلکہ بہادر وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کو دبا کر ان پر غلبہ پاتا ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ رمضان کی برکات اتنی وسیع ہیں کہ ان میں اسلام کی چار بنیادی عبادتوں کے علاوہ جہاد کے ثواب کا بھی رستہ کھولا گیا ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ چونکہ روزے میں سب کچھ شامل ہے اس لئے اس کی جزا میں خود ہوں۔اور عقلاً بھی یہی درست ہے کیونکہ روزہ دار کو نماز کا ثواب بھی ملتا ہے، روزہ کا ثواب بھی ملتا ہے، زکوۃ کا ثواب بھی ملتا ہے، حج کا ذوق بھی حاصل ہوتا ہے اور جہاد کا موقع بھی میسر آتا ہے۔اجر پانے کے لئے صحت نیت بھی ضروری ہے: مگر یا درکھنا چاہئے کہ اسلامی عبادتیں کوئی منتر جنتر نہیں ہیں کہ ادھر پھونک مار کر ایک کام کیا اور اُدھر نتیجہ نکل آیا۔بلکہ اسلام صحت نیت چاہتا ہے۔ہمت چاہتا ہے۔صبر و استقلال چاہتا ہے۔اور لمبے عرصہ کا مجاہدہ چاہتا ہے۔قرآن فرماتا ہے: أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (العنكبوت: 3) یعنی کیا یہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ صرف ایمان کے زبانی دعوے پر خدا ان کو چھوڑ دے اور ان کے سارے کام یونہی پورے ہو جائیں اور وہ امتحانوں اور ابتلاؤں کی بھٹی میں نہ ڈالے جائیں؟ ہوشیار ہو کر سن لو کہ یہ بات خدائے حکیم و علیم کی سنت کے خلاف ہے۔پس رمضان کی برکات سے فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ انسان پاک نیت اور بچے ایمان اور صبر و استقلال کے ساتھ ان احکام کو بجالائے جو خدا تعالیٰ نے رمضان کے ساتھ وابستہ کئے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص رمضان میں کذب اور قول زور کو نہیں چھوڑتا اور روزے کی حقیقت سے بے خبر رہ کر محض نمائش اور ظاہر داری کا رنگ اختیار کرتا ہے وہ مفت میں بھوکا رہتا ہے۔جس کی خدا کے حضور کچھ بھی قدرو قیمت نہیں۔ایک عرب شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ: يَغُوصُ الْبَحْرَ مَنْ طَلَبَ الأَلَّى وَ مَنْ طَلَبَ الْعُلَى سَهِرَ اللَّيَالِي