مضامین بشیر (جلد 3) — Page 510
مضامین بشیر جلد سوم 510 آیات تلاوت کرتا اور انہیں پاک وصاف کرتا اور انہیں احکام الہی اور ان کی حکمت سکھاتا ہے۔اگر چہ وہ اس سے پہلے کھلی کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔اور ایک بعد میں آنے والی قوم بھی ہوگی جو ابھی تک ظاہر ہو کر ان سے نہیں ملی۔جن کی یہ رسول اپنے ایک ظلن کے ذریعہ اسی رنگ میں تربیت فرمائے گا اور وہ غالب اور حکمت والا خدا ہے۔جو اس قسم کے انتظام پر پوری قدرت رکھتا ہے ( اور اگر کہو کہ ایک بعد میں آنے والی قوم کو یہ فضیلت کس طرح حاصل ہوگی تو جانو کہ ( یہ اللہ کی دی ہوئی فضیلت ہے۔وہ جسے چاہتا ہے۔اپنی جناب سے فضیلت عطا کرتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل و کرم کا مالک ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو صحابہ کرام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! یہ بعد میں آنے والے لوگ کون ہیں؟ جس پر آپ نے ایک صحابی حضرت سلمان فارسی پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ اگر ایمان زمین سے غائب ہو کر ثریا ستارے تک بھی پہنچ گیا تو ان اہلِ فارس میں سے ایک شخص اسے پھر زمین پر لاکر قائم کر دے گا۔( بخاری کتاب التفسیر سورۃ الجمعۃ ) اور یہ وہی عظیم الشان مصلح ہے جسے دوسرے الفاظ میں مسیح اور مہدی کا نام دیا گیا ہے۔اسی لئے دوسری جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس آنے والے مصلح کی شان اور اس کے کارناموں کی وسعت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : مَثَلُ أُمَّتِي كَمَثَلُ الْمَطَرِ لَا يُدْرِيَ أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمٍ آخِرُهُ - ( ترندی کتاب الامثال عن رسول الله باب مثل الصلوات الحمس ) یعنی میری امت کی مثال برسات کے موسم کی طرح ہے جس کے متعلق نہیں کہہ سکتے کہ اس کے شروع کی بارش نتائج کے لحاظ سے زیادہ فائدہ بخش ہوگی یا کہ اس کے آخر کی بارش زیادہ نفع مند ثابت ہوگی۔اس سے نعوذ باللہ یہ مراد نہیں کہ کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والا مصلح امکانی طور پر زیادہ بہتر کام کر سکتا ہے۔کیونکہ بہر حال جو بھی آپ کے بعد آئے گا وہ آپ ہی کا شاگرد اور آپ ہی سے فیض یافتہ اور آپ ہی کے شجرہ طیبہ کی شاخ ہوگا۔اور اس کا کام آپ ہی کی روحانی توجہ اور آپ ہی کی مقناطیسی تاثیرات کا نتیجہ ہو گا۔بلکہ مراد یہ ہے کہ مسیح موعود اور مہدی معہود ایسے زمانہ میں ظاہر ہو گا جب کہ میل ملاقات کے لحاظ سے دنیا ایک قوم کے رنگ میں آچکی ہوگی اور آمد ورفت کے ذرائع نہایت وسیع ہو چکے ہوں گے اور پریس کی ایجاد کی وجہ سے لٹریچر کی اشاعت بھی بے حد آسان ہو چکی ہوگی اور اسلام کے خلاف دوسری قوموں کے تمام اعتراضات بھی نمایاں ہو کر دنیا کے سامنے آجائیں گے۔اس لئے لازماً اس کے زمانہ میں تبلیغ کا کام