مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 487 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 487

مضامین بشیر جلد سوم مکرم و محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب - 487 بسم الله الرحمن الرحیم۔چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب میں نے پہلی بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لاہور میں زیارت کی تو میرے دل میں اس وقت کسی قسم کے عقائد کی تنقید نہیں تھی جو اثر بھی میرے دل پر اس وقت ہوا وہ یہی تھا کہ یہ شخص صادق ہے اور جو کچھ کہتا ہے وہ سچ ہے اور ایک ایسی محبت میرے دل میں آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈال دی گئی کہ وہی میرے لئے حضور علیہ السلام کی صداقت کی اصل دلیل ہوگئی۔میں گو اس وقت بچہ ہی تھا لیکن اس وقت سے لے کر اب تک مجھے کسی وقت بھی کسی دلیل کی ضرورت نہیں پڑی۔بعد میں متواتر ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں جو میرے ایمان کی مضبوطی کا باعث ہوئے لیکن میں نے حضرت مسیح موعود ملیہ السلام کو آپ کا چہرہ مبارک دیکھ کر ہی مانا تھا اور وہی اثرات اب تک میرے لئے حضور کے دعاوی کی صداقت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ میں 3 ستمبر 1904 ء کے دن سے ہی احمدی ہوں۔بِسْمِ م الله الرحمن الرحیم۔چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ شروع ستمبر 1904ء میں میرے والد صاحب مجھے اپنے ہمراہ لاہور لے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُن دنوں لاہور ہی میں تشریف رکھتے تھے۔3 ستمبر کو آپ کا لیکچر میلا رام کے منڈوے میں ہوا۔والد صاحب مجھے بھی اپنے ہمراہ وہاں لے گئے۔میری عمر اس وقت ساڑھے گیارہ سال کی تھی لیکن وہ منظر مجھے خوب یاد ہے کہ مجھے سٹیج پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کرسی کے قریب ہی جگہ مل گئی۔اور میں قریباً تمام وقت آپ ہی کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھتارہا۔گو معلوم ہوتا تھا کہ میں نے لیکچر بھی توجہ سے سنا ہوگا یا کم سے کم بعد میں توجہ سے پڑھا ہوگا۔کیونکہ اس لیکچر کے بعض حصے اس وقت سے مجھے اب تک یاد ہیں لیکن میری توجہ زیادہ تر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چہرہ مبارک کی طرف رہی۔آپ ایک آرام کرسی پر تشریف فرما تھے اور ایک سفید رومال آپ کے ہاتھ میں تھا جوا اکثر وقت آپ کے چہرہ مبارک کے نچلے حصہ پر رکھا رہا۔(ماہنامہ خالد جنوری 1958ء)