مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 460 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 460

مضامین بشیر جلد سوم 460 زائرین کو بھی ویز انہیں دیا جا رہا۔گویا موجودہ صورت میں قادیان کا رستہ عملاً بند کر دیا گیا ہے۔مجھے خیال آتا ہے کہ شاید یہ صورت حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس رویا کے مطابق ہے جس میں حضور نے دیکھا تھا کہ قادیان سے باہر کسی اور جگہ پر ہیں اور قادیان کی طرف واپس جانا چاہتے ہیں مگر راستہ میں ایک بڑا خوفناک دریا حائل ہے جو بکر زخار کی طرح چل رہا ہے۔اور حضور یہ کہ کر واپس چلے آئے ہیں کہ ابھی رستہ نہیں ہے۔( تذکرہ نیا ایڈیشن صفحہ 463) میں سمجھتا ہوں کہ غالباً موجودہ روک اسی روک کا پیش خیمہ ہے جس کی طرف رویا میں اشارہ کیا گیا ہے۔اور انشاء اللہ اس کے بعد خدا تعالیٰ کی کوئی اور تقدیر ظاہر ہونے والی ہے۔سواے وےلوگو! جنہوں نے ظلمت کو دیکھ لیا پریشان مت ہو کہ اس کے بعد روشنی آنے والی ہے۔وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَعِندَهُ عِلمُ السَّاعَةِ وَ هُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرِ - ( محرره 4 اکتوبر 1957 ء )۔۔۔۔۔۔۔۔۔روزنامه الفضل ربوہ 8 اکتوبر 1957ء) انصار اللہ کا نصب العین ( حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یہ قیمتی نوٹ انصار اللہ کے سالانہ اجتماع کے لئے رقم فرمایا تھا۔جسے مکرم مولوی ابوالعطاء صاحب قائد عمومی مجلس مرکزیہ نے اجتماع کے آخری اجلاس منعقد ہ 26 اکتوبر میں پڑھ کرسنایا۔) جہاں تک انصار اللہ کے نصب العین کا تعلق ہے یہ کوئی مشکل یا پیچیدہ مضمون نہیں ہے۔انصار اللہ کے معنی اللہ تعالیٰ کے مددگاروں کے ہیں اور اس سے مراد اس کام میں مدد دینا ہے جو سلسلہ عالیہ کو قائم کر کے اللہ تعالیٰ دنیا میں سرانجام دینا چاہتا ہے اور قرآن مجید سے ظاہر ہے کہ یہ کام دو حصوں میں منقسم ہے۔ایک لوگوں تک ( دین حق ) اور احمدیت کا پیغام پہنچانا اور دوسرے جولوگ اس پیغام کو قبول کریں انہیں اس پیغام کی حقیقت پر قائم کرنا اور یہی وہ کام ہے جسے دوسرے لفظوں میں تبلیغ اور تربیت کے الفاظ سے یاد کیا گیا ہے۔لیکن چونکہ یہ کام ایک طرف تنظیم کو چاہتا ہے اور دوسری طرف اس کے لئے روپے کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لئے انصار اللہ کا کام در اصل چار حصوں پر تقسیم شدہ ہے۔اول تبلیغ ، دوم تربیت، تیسرے تنظیم اور