مضامین بشیر (جلد 3) — Page 433
مضامین بشیر جلد سوم ہوانسخہ ہے۔پس ع اے آزمانے والے یہ نسخہ بھی آزما وَكَانَ اللَّهُ مَعَ مَنْ عَهَدَ وَ وَفَّى (محررہ 15 اپریل 1957ء) 433 روزنامه الفضل ربوہ 18 اپریل 1957ء) خدائی رحمت کی بے حساب وسعت مومنوں کو کسی حال میں بھی مایوس نہیں ہونا چاہئے قرآن مجید میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے: قَالَ عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الاعراف: 157) یعنی میرا عذاب تو میرے عام قانون کے ماتحت صرف ان لوگوں کو پہنچتا ہے جو کسی امر میں خلاف ورزی کر کے اس قانون کی زد میں آجاتے ہیں۔لیکن میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے اور اس کے لئے کوئی حد بندی نہیں۔اس لطیف آیت میں جو مَنْ أَشَاءُ کے الفاظ آتے ہیں۔ان سے قرآنی محاورہ کے مطابق خدا تعالیٰ کا عام قانون مراد ہے۔ورنہ نعوذ باللہ یہ منشاء نہیں کہ عذاب تو خدا کی مرضی کے مطابق آتا ہے۔مگر رحمت گویا اس کی مرضی کی حدود کو توڑ کر بے اختیار نکلتی رہتی ہے۔چنانچہ جہاں جہاں بھی قرآن مجید میں خدا کی مشیت کا ذکر آتا ہے اور قسم کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں کہ لَوْ شَاءَ اللَّهُ وَإِن يَّشَاءَ اللَّهُ وَإِنْ شَاءَ اللَّهَ وغیرہ وغیرہ۔وہاں خدا تعالیٰ کے عام قانون قضاء و قدر اور عام قانون جزاء وسزا کی طرف ہی اشارہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔اور یہ ایک خاص نکتہ ہے جو دوستوں کو یا درکھنا چاہئے۔کیونکہ اس سے قرآنی تفسیر میں بہت سی مشکلات کے حل کا رستہ کھلتا ہے۔اوپر کی درج شدہ آیت کے علاوہ حدیث میں بھی خدائی رحمت کے متعلق یہ الفاظ آتے ہیں کہ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبی یعنی خدا تعالیٰ نے یہ لکھ رکھا ہے کہ میری رحمت ہمیشہ میرے غضب پر غالب رہے گی۔یعنی میرے انعام اور میرے عفو کا پہلو میرے غضب اور میرے سزا کے پہلو سے کبھی مغلوب نہیں ہو