مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 369 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 369

مضامین بشیر جلد سوم 369 پس خدا کے لئے ہمارے دوست اپنے فرض کو پہچانیں اور اب اس نا مناسب سلسلہ سوالات کو بند کر دیں۔ہر معاملہ کی اہمیت کا ایک مخصوص درجہ ہوتا ہے اور بزرگوں نے کیا خوب کہا ہے کہ: گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی محرره 16 جون 1956ء) روزنامه الفضل 21 جون 1956ء) جماعت کے نوجوان دعاؤں میں شغف پیدا کریں تقوی اور دعائیں روحانیت کی جان ہیں میں اپنی اس بیماری میں کئی دفعہ سو چتارہا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے صحابہ اب صرف خال خال رہ گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان مبارک ہستیوں کی زندگی میں برکت دے اور انہیں تادیر جماعت میں سلامت رکھے۔بہر حال خدا تعالیٰ کے اہل قانون قضاء وقدر کے ماتحت یہ چند نفوس اب گویا چراغ سحری کے حکم میں ہیں۔جنہیں کسی معمولی سے معمولی بیماری یا کسی معمولی سے معمولی حادثہ کا دھنگا اس عالم ارضی سے عالم بالا کی طرف منتقل کر سکتا ہے۔بے شک ایسے صحابہ کی تعدا دا بھی کافی ہے جنہوں نے اپنے بچپن کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا اور حضور کا کچھ کلام بھی سنا اور گوان کا وجود بھی بہت غنیمت ہے۔لیکن اول تو یہ طبقہ اب کم ہو رہا ہے اور پھر ان دوسرے درجہ کے صحابہ کو ان الســـابـقُـونَ الأَوَّلُونَ صحابہ سے فی الجملہ کیا نسبت ہے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لمبی صحبت کا شرف حاصل کیا۔اور شب وروز حضور کے دائیں اور بائیں اور آگے اور پیچھے کھڑے ہو کر جہاد فی الدین میں حصہ لیا اور خدا تعالیٰ کے تازہ بتازہ نشانوں کو بارش کے قطروں کی طرح نازل ہوتے دیکھا اور حضور کے مقناطیسی وجود سے متصل ہو کر گویا خود بھی علی قدر مراتب مقناطیسی وجود بن گئے اور خدا تعالیٰ نے انہیں رویائے صالحہ اور کشوف اور الہام کے شرف سے نوازا اور ایک طرف انہیں دعاؤں میں شغف عطا کیا اور دوسری طرف ان کی دعاؤں کو خاص قبولیت بخشی۔ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ (الحديد :22) الغرض میں اپنی موجودہ بیماری میں ان باتوں کے متعلق کافی سوچتارہا اور میں نے ارادہ کیا کہ مجھ میں ط