مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 320 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 320

مضامین بشیر جلد سوم 320 آج سے چالیس سال قبل شروع ہوئے اور ہم نے نہایت درجہ محبت اور اخلاص کے ساتھ یہ زمانہ گزارا اور نظارتوں میں آنے کے بعد تو ہم گویا مسلسل رفیق کا رہی رہے۔درد صاحب اکثر میری رائے پر اعتماد کرتے تھے اور مجھے بھی اکثر ان کے مشورہ پر اعتماد ہوتا تھا اور گو بعض اوقات ہماری رائے میں اختلاف بھی ہو جاتا تھا (وَاخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ ( مگر درد صاحب کی محبت کا یہ انداز تھا کہ وہ اکثر میری رائے پر اعتماد کر کے اپنی رائے ترک کر دیتے تھے۔گو بعض اوقات مجھے بعد میں محسوس ہوتا تھا کہ حالات کے لحاظ سے دردصاحب کی رائے ہی زیادہ مناسب تھی۔مجھے وہ آخری دفعہ چند دن ہوئے لاہور میں عزیز مظفر احمد کے مکان پر آ کر ملے۔دراصل وہ میری اور ام مظفر احمد کی عیادت کے لئے وہاں آئے تھے اور اس سے قبل بھی کئی دفعہ آچکے تھے۔لیکن اس دفعہ ایسا خدائی تصرف ہوا کہ جب میں انہیں رخصت کرنے کے لئے مکان سے باہر گیا تو انہیں رخصت کرتے ہوئے ان سے غیر معمولی طور پر بغلگیر ہو کر ملا۔غالباً اس میں تقدیر کا یہ اشارہ تھا کہ اب یہ تم دونوں کی آخری ملاقات ہے۔میرے علاوہ دردصاحب کے زیادہ تعلقات عزیزم مکرم مرزا عزیز احمد صاحب ایم۔اے ناظر اعلیٰ اور عزیزم میاں ناصر احمد صاحب اور عزیزم مرزا ظفر احمد اور عزیزم مرزا مظفر احمد اور مکرمی ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور مکرمی چوہدری فتح محمد صاحب سیال ( جن کے ساتھ بعد میں ان کا رشتہ بھی ہو گیا ) اور مکرمی شیخ بشیر احمد صاحب اور مکرمی چوہدری اسد اللہ خاں صاحب اور مکرمی راجہ علی محمد صاحب کے ساتھ تھے۔مگر حقیقتا ان کا حلقہ ملاقات بہت وسیع تھا اور بہت سے غیر از جماعت معزز اصحاب ان کے دوستوں میں شامل تھے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ تو درد صاحب کو خاص محبت اور عقیدت تھی اور ان کے دل میں حضور کا خاص اکرام تھا اور حضور کو بھی ان پر بہت اعتماد تھا۔جب ہوشیار پور مصلح موعود والا جلسہ فروری 1944 ء میں ہوا تھا تو اس میں اور بعض بعد کے جلسوں میں بھی درد صاحب نے ہی مصلح موعود والی پیشگوئی حاضرین کو سنائی تھی۔اس موقع پر درد صاحب کو اس وجہ سے چنا گیا تھا کہ ان کے پھوپھا یعنی حضرت منشی عبداللہ صاحب مرحوم ان ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ تھے۔جب حضور نے ہوشیار پور میں چلہ کشی کی اور انہی ایام میں مصلح موعود والے الہامات ہوئے۔در دصاحب کی وفات کے ساتھ من جملہ دیگر تلخ احساسات کے یہ تلخ حقیقت بھی شامل ہے کہ اس سال ہمارے بہت سے قدیم بزرگ اور دوستوں نے وفات پائی ہے۔چنانچہ اولاً حضرت اماں جی یعنی اہلیہ محترمہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اور حکیم فضل الرحمن صاحب افسر لنگر خانہ و سابق مبلغ افریقہ اور مکرم مولوی