مضامین بشیر (جلد 3) — Page 298
مضامین بشیر جلد سوم 298 رزق ہے۔وہ اپنا علم بھی خدا کے رستہ میں خرچ کرتے ہیں کیونکہ ان کا علم خدا کا دیا ہوا رزق ہے۔وہ اپنے جسم و روح اور دل و دماغ کی طاقتیں بھی خدا کے راستہ میں خرچ کرتے ہیں کیونکہ انسانی جسم و روح کی ہر طاقت خدا کا رزق ہے اور پھر وہ اپنی اولاد کو بھی اچھی تربیت کے ذریعہ نیکی کے راستہ پر ڈال دیتے ہیں۔کیونکہ اولاد بھی خدا کا دیا ہوا رزق ہے اور اس طرح قربانی کا ایک دائمی اور لامتناہی سلسلہ قائم ہو جاتا ہے۔اب ان آیات کے پیش نظر ہر احمدی کہلانے والے کا فرض ہے کہ وہ اپنی زندگی کا جائزہ لے کر غور کرے کہ کیا وہ قرآنی حکم کے مطابق امت محمدیہ کا فرد ہونے کے لحاظ سے ایسی قربانی پیش کر رہا ہے۔جس کا اس سے مطالبہ کیا گیا ہے؟ چندہ دینے والے احمدی تو بے شک بہت ہوں گے۔گو اس میدان میں بھی سستی کرنے والوں کی کمی نہیں۔مگر کیا ہر احمدی اپنے نفس کا محاسبہ کر کے یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس کا ہر قول اور ہر فعل، اس کی زندگی کی ہر ساعت خدا کے لئے ہے؟ یا کم از کم یہ کہ اس کی زندگی کے ہر شعبہ میں اور اس کے مادی اور روحانی رزق کے ہر میدان میں خدا کا حصہ ہے؟ بے شک اسلام جائز طور پر دنیا کمانے اور دنیا میں ترقی حاصل کرنے اور دنیوی امور میں حصہ لینے سے نہیں روکتا۔بلکہ نیک نیتی کے ساتھ اصلاح اور قومی ترقی کی غرض سے ان کاموں میں حصہ لینے کو بھی موجب ثواب گردانتا ہے لیکن کیا ہر احمدی کا دل اس محاسبہ پر تسلی پاتا ہے کہ وہ خدائی منشاء کے مطاق اپنے مال کا واجبی حصہ دین کے لئے خرچ کر رہا ہے؟ کیا وہ اپنے وقت کا مناسب حصہ دین کی خدمت میں لگا رہا ہے؟ کیا وہ اپنے خدا داد علم کو خدا کے رستہ میں خرچ کر رہا ہے؟ کیا وہ اپنے دل و دماغ کی طاقتوں میں سے خدا کا حصہ نکال رہا ہے۔اور کیا اس نے اپنی اولاد کو بھی اچھی تربیت کے ذریعہ ایسے رستہ پر ڈال دیا ہے کہ اس کی نسل دائگی قربانی کی وارث بن جائے ؟ اگر یہ نہیں تو ہمارا امتِ رسول میں ہونے کا دعوی سچا نہیں سمجھا جا سکتا۔بلکہ اس صورت میں ہمیں حقیقی رنگ میں عید منانے کا بھی حق نہیں۔پس آؤ ہم آج کے مبارک دن جو ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جد امجد کی مقدس قربانیوں کی یادگار ہے۔خدا سے عہد کریں کہ جس طرح ہم آج ظاہری عید منانے کے لئے جانوروں کی قربانی دے رہے ہیں اسی طرح بلکہ اس سے بہت بڑھ چڑھ کر ہم قربانی کی حقیقی روح کو بھی اپنے دلوں میں ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔ہم اپنے مال اور اپنے وقت اور اپنے علم اور اپنے دل ودماغ کی ہر طاقت میں سے خدا کا حصہ نکالیں گے اور ہر دینی اور قومی امتحان کے وقت ہماری روح ایسے ہوش اور ولولہ کے ساتھ لبیک لبیک کہتی ہوئی اٹھے گی۔جو ہمارے آقا سرور کائنات کی مقدس روح کو خوش کرنے والا اور خدا کے حضور ہماری سرخروئی کا موجب