مضامین بشیر (جلد 3) — Page 297
مضامین بشیر جلد سوم 297 قربانی کی روح کو زندہ رکھنے کے لئے مقرر کی گئی ہے۔یہ وہی عید ہے جو آج دنیا بھر کے مسلمان اپنی اپنی جگہ منا رہے ہیں۔اس عید کی ابتدا ابوالانبیاء حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی اس قربانی سے ہوئی جو انہوں نے اولاً اپنے بیٹے حضرت اسمعیل کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنے کو تیار ہو جانے اور پھر اسے ایک وَادٍ غَيْرَ ذِي ذَرْعٍ میں بظاہر موت کے منہ ڈال دینے کی صورت میں پیش کی اور گویا خدا کے لئے اپنے نازک ترین جذبات اور اپنے نور چشم اور اپنی زندگی کے سہارے اور اپنی نسل کی بقا کے ذریعہ کو قربان گاہ پر چڑھا دیا اور اس کے بعد اس عید کی تحمیل فَدَيْنَاهُ بِذِبح عظیم کے الہی وعدہ کے مطابق ہمارے آقا سرور کائنات حضرت خاتم انبین عَظِيمٍ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود میں آکر اپنے معراج کو پہنچی۔جب کہ آپ نے مجسم قربانی بن کر اپنے ہر قول اور ہر فعل اور اپنی زندگی کی ہر حرکت اور ہر سکون اور اپنی وفات تک کے ہر لمحہ کو خدا کے حضور دائی قربانی میں پیش کر دیا۔یہی وہ عدیم المثال مقام ہے جس کے پیش نظر اللہ تعالے آپ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ قل إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام: 164 ) یعنی اے رسول! تو دنیا سے کہہ دے کہ میری ہر قولی عبادت اور میری ہر فعلی عبادت اور میری زندگی کی ہر گھڑی بلکہ میری موت تک کی ہر ساعت خداوند عالم کی خدمت کے لئے وقف ہے۔اس طرح جہاں حضرت ابراہیم نے اپنے اس بیٹے کی قربانی پیش کی تھی۔جو رسول اللہ کا باپ بننے والا تھا۔وہاں خود رسول پاک صل اللہ علیہ وسلم نے اس قربانی کو معراج تک پہنچا کر اپنی جان اور اپنے جسم و روح کی ہر طاقت خدا کے قدموں میں ڈال دی۔عید الاضحیہ کی مادی قربانیاں انہی دو عظیم الشان روحانی قربانیوں کی یاد میں مقرر کی گئی ہیں تا مسلمانوں کے دلوں میں اس سبق کو بار بار دہرا کر راسخ کیا جائے کہ جس قوم وملت کا آغاز ان بھاری قربانیوں سے ہوا ہے انہیں اپنی قومی بقا اور قومی ترقی کے لئے کسی زمانہ میں بھی مسلسل اور غیر معمولی قربانیوں کی طرف سے غافل نہیں رہنا چاہئے۔اسی لطیف نکتہ کی طرف توجہ دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے شروع میں سچے مومنوں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُون یعنی خدا کی نظر میں حقیقی متقی صرف وہ لوگ ہیں جو ہر اس نعمت اور ہر اس طاقت میں سے جو ہم نے انہیں مادی یا روحانی رزق کے طور پر عطا کی ہے خدا کے راستہ میں بے دریغ خرچ کرتے رہتے ہیں۔وہ اپنا مال بھی خدا کے رستہ میں خرچ کرتے ہیں۔کیونکہ ان کا مال خدا کا دیا ہوا رزق ہے۔وہ اپنا وقت بھی خدا کے راستے میں خرچ کرتے ہیں کیونکہ ان کی زندگی کی ہر گھڑی خدا کا