مضامین بشیر (جلد 3) — Page 225
مضامین بشیر جلد سوم 225 بنایا کہ وہ ہر وقت لذات نفسانی میں ہی غرق رہے۔بلکہ اس کا یہ وسطی مقام مقرر کیا ہے کہ وہ بے شک مناسب اور جائز حد تک مادی اور جسمانی لذات سے بھی متمتع ہو۔کیونکہ یہ چیزیں بھی فطرت انسانی کا حصہ ہیں مگر اسے چاہئے کہ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنيا (الکہف: 105) کے رنگ میں ان لذات میں غرق نہ ہو بلکہ دست در کار دل بایار والا معاملہ رکھے۔آپ دیندار رہتے ہوئے اور اخلاق کے دامن کو ہاتھ سے نہ چھوڑتے ہوئے بے شک اچھا کھا ئیں۔اچھا پہنیں۔اچھے مکان میں رہیں۔اچھا فرنیچر استعمال کریں۔اہل وعیال کی خوشیوں میں حصہ لیں۔دوستوں کے ساتھ معصوم مجلسیں جمائیں۔دنیا کی سیر و سیاحت کریں۔آپ کو کون روکتا ہے؟ چشم ما روشن دل ما شاد۔مگر یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ خرچ کے معاملہ میں اپنا اپنا مذاق اور اپنا اپنا میلان ہوا کرتا ہے اور اس بارے میں نیک لوگوں میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔اصل مرکزی نقطہ تقویٰ اور دینداری ہے۔اس دائرہ کے اندر اندر رہتے ہوئے سب کچھ جائز ہے۔کیا آپ نے نہیں سنا کہ بعض اوقات حضرت سید عبدالقادر صاحب جیلانی ایک ایک ہزار روپے کا جوڑا پہنتے تھے مگر باوجود اس کے وہ اپنی روح کے لحاظ سے یقینا ایک فنافی اللہ زاہد منش درویش تھے۔صحابہ ہی کو دیکھ لیں ان میں حضرت عثمان جیسے عالی مرتبہ ذی ثروت بزرگ بھی تھے۔جن کے قدموں میں دولت لوٹتی پوٹتی تھی اور دوسری طرف ان میں حضرت ابوذرغفاری جیسے فاقہ مست صحابی بھی تھے جو دولت جمع کرنے کے خیال تک کو گناہ سمجھتے تھے۔ہمارے رسول پاک نے بے شک الفقر فخری (یعنی فقر میر افخر ہے ) فرمایا ہے اور حضور (فدا نفسی) کا یہی مقام تھا مگر حضرت سلیمان بھی تو اللہ ہی کے نبی تھے جن کی شان و شکوہ کو آجکل کے کئی بادشاہ بھی ترستے ہیں۔دین العجائز بالآخر مجھے خوشی ہے کہ سوال کرنے والے دوست نے ان شبہات اور دماغی الجھنوں کے باوجود دعا کی درخواست کی ہے اور لکھا ہے کہ وہ اسلام اور احمدیت کے دامن کے ساتھ وابستہ رہنے کو بہر حال اپنے لئے موجب سعادت سمجھتے ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ان کے یہ جذبات دکھاوے کے طور پر نہیں بلکہ اخلاص پر مبنی ہیں اور یہی سچے مومن کا مقام ہے۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے وساوس دور فرمائے اور ان کے دل میں تسکین اور اطمینان کی کیفیت پیدا ہو اور وہ خدا سے راضی رہیں اور خدا ان سے راضی ہو مگر اس کے ساتھ ہی میری انہیں یہ نصیحت ہے کہ آپ زیادہ سوچا نہ کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ اکثر لوگوں کے لئے دين العجائز بہتر ہوتا ہے۔یعنی سادہ دیہاتی لوگوں کا سا ایمان جو اسلام کے