مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 196 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 196

مضامین بشیر جلد سوم 196 ہاتھ ہے جس کے سامنے دنیا کی کوئی طاقت ایک پر پشہ کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتی۔اس لئے خدا کی یہ قدیم سنت ہے کہ جہاں وہ ایک طرف شروع میں ہی اپنے مرسلوں کی فتح اور کامیابی کا اعلان فرماتا ہے وہاں اس کے ساتھ ساتھ وہ ان بھاری خطرات کا ذکر بھی کرتا رہتا ہے جوان مرسلوں کو پیش آنے والے ہوتے ہیں۔یا جوج ماجوج اور دجال کا فتنہ مثلاً جہاں قرآن مجید نے اسلام کے مقابل پر یا جوج ماجوج کے نام کے ساتھ ان دجالی طاقتوں کا ذکر کیا ہے جو آخری زمانہ میں اسلام سے نبرد آزما ہونے والی تھیں۔وہاں اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ اعلان بھی کروا دیا کہ یہ دجالی طاقتیں بالآخر اسلام کے مقابل پر نمک کی طرح پچھلنی شروع ہو جائیں گی۔چنانچہ یا جوج ماجوج ( یعنی سرمایہ داری اور اشتراکیت کی طاقتوں) کے متعلق قرآن مجید فرماتا ہے:۔حتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَا جُوُجُ وَ مَاجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُونَ(الانبياء:97) یعنی آخری زمانہ میں یا جوج اور ماجوج جو اس سے قبل بھی دنیا میں موجود تو ہوں گے مگر گویا بند پڑے ہوں گے ) فتنہ وفساد بر پا کرنے کے لئے کھول دیئے جائیں گے اور وہ اس زمانہ میں دنیا کی ہرٹھوس بلندی پر قابض ہوں گے اور دنیا کی کوئی بلندی اور رفعت ان کے قبضہ سے باہر نہیں ہوگی۔اور وہ اپنی ان بلندیوں سے دنیا کی کمزور اور پستی میں پڑی ہوئی اقوام کو کچلنے اور اپنی ایڑیوں کے نیچے رکھنے کے لئے دوڑے چلے آتے ہوں گے۔اللہ اللہ ! اس زمانہ کی دجالی طاقتوں اور سرمایہ داری اور اشتراکیت کے بھیانک فتنوں کا کیسا عجیب وغریب نقشہ ہے۔کہ گویا دریا کو کوزے میں بند کر کے رکھ دیا ہے؟ اور مسلمانوں کو ہوشیار اور چوکس کیا ہے کہ اپنے مقابلہ کی طاقتوں کو کمزور نہ جانو۔بلکہ وہ ایک ایسا فتنہ ہوگا جو ایک عظیم الشان سیلاب کی طرح تمام دنیا میں چھا جائے گا۔اور اس فتنہ کی مہیب لہریں ہر پستی اور ہر نشیب کو غرقاب کرنے کے لئے اس طرح بڑھیں گی جس طرح کہ ایک تیز بارش کے بعد پہاڑی نالے اپنے نیچے کی وادیوں کو بھرنے کے لئے شور کرتے اور گرجتے ہوئے بڑھتے ہیں۔اس جگہ یا درکھنا چاہئے کہ یا جوج ماجوج کا نام نسلی اور سیاسی اقتدار کی بناء پر رکھا گیا ہے۔مگر مذہبی فتنہ کے لحاظ سے انہی اقوام کا نام حدیثوں میں دجال بیان ہوا ہے۔چنانچہ دجال کے متعلق آنحضرت صلے اللہ