مضامین بشیر (جلد 3) — Page 147
مضامین بشیر جلد سوم 147 ہے اور اس طرح بعض اوقات بُرے ماں باپ کے بچے نیک ہو جاتے ہیں۔اور بعض اوقات اچھے ماں باپ کے گھر میں بُرے بچے بھی جنم لے لیتے ہیں۔بلکہ خدا تعالیٰ نے ایک طرف مسلمانوں کو ہوشیار کرنے کے لئے اور دوسری طرف انہیں مایوسی سے بچانے کے لئے قرآن مجید میں اس کی بعض مثالیں بھی بیان کی ہیں کہ کس طرح ایک بُرے گھر میں اچھا بچہ پیدا ہو گیا اور ایک اچھے گھر میں بُرا بچہ نکل آیا۔مگر عام قاعدہ یہی ہے کہ نیک اولاد پیدا کرنے اور اولاد کو اچھی تربیت دینے کی جو اہلیت ایک نیک ماں رکھتی ہے وہ ہرگز ہرگز ایک بے دین ماں کو حاصل نہیں ہوتی۔خاکسار راقم الحروف نے بڑے غور کی نظر سے ہزاروں گھروں کے حالات کو دیکھا ہے۔اور گویا ان کے اندرون خانہ میں جھانک جھانک کر تجسس کی نظر دوڑائی ہے مگر میں اس کے سوا کسی اور نتیجہ پر نہیں پہنچا کہ نیک اولاد پیدا کرنے اور نیک بچے بنانے میں ظاہری اسباب کے ماتحت نوے فی صدی حصہ دیندار ماؤں کا ہوتا ہے۔اچھی ماؤں کی نگرانی میں پرورش پانے والے بچے نہ صرف دن رات اپنی ماں کے نیک اعمال (یعنی نماز، روزه، تلاوت قرآن، صدقہ و خیرات، جماعتی کاموں کے لئے چندے، خدا رسول کی محبت۔دینی غیرت وغیرہ) کے نظارے دیکھتے ہیں بلکہ جس طرح وہ اپنی ماں کے اعمال کو دیکھتے ہیں اسی طرح ان کی ماں بھی شب و روز ان کے اعمال کو دیکھتی ہے۔اور ہر خلاف اخلاق بات اور ہر خلاف شریعت حرکت پر ان کو ٹوکتی اور شفقت و محبت کے الفاظ میں انہیں نصیحت کرتی رہتی ہے۔ماں کا یہ فعل جو اس کی اولاد کے لئے ایک دلکش و شیریں اسوہ ہوتا ہے اور ماں کا یہ قول جو اس کے بچوں کے کانوں میں شہد اور تریاق کے قطرے بن کر اُترتا چلا جاتا ہے۔ان کے گوشت پوست اور ہڈیوں تک میں سرایت کر کے اور ان کے خون کا حصہ بن کر انہیں گویا ایک نیا جنم دے دیتا ہے۔کاش دنیا اس نکتہ کو سمجھ لے۔قوموں کے لیڈر اس نکتہ کو سمجھ لیں۔خاندانوں کے بانی اس نکتہ کو سمجھ لیں۔گھر کا آقا اس نکتہ کو سمجھ لے۔بچوں کی ماں اس نکتہ کو سمجھ لے اور کاش بچے ہی اس نکتہ کو سمجھ لیں کہ اولاد کی تربیت کا بہترین فطری آلہ ماں کی گود ہے۔پس اے احمدیت کی فضاء میں سانس لینے والی بہنو اور بیٹیو! اور اے آج کی ماؤں اور اے کل کو ماں بننے والی لڑکیو! اگر قوم کو تباہی کے گڑھے سے بچا کر ترقی کی شاہراہ کی طرف لے جانا ہے تو سنو اور یا درکھو کہ اس نسخہ سے بڑھ کرکوئی نسخہ نہیں۔کہ اپنی گودوں کو نیکی کا گہوارہ بناؤ۔اپنی گودوں میں وہ جو ہر پیدا کرو جو بدی کو مٹا تا اور نیکی کو پروان چڑھاتا ہے۔جو شیطان کو دور بھگاتا اور انسان کو رحمن کی طرف کھینچ لاتا ہے۔بچہ کی ولادت کے ساتھ ہی اس کی تربیت کا زمانہ شروع ہو جاتا ہے ماں کی نیکی کے بعد خود اولاد کی تربیت کا سوال پیدا ہوتا ہے۔اس ضمن میں سب سے پہلاسوال یہ ہے