مضامین بشیر (جلد 3) — Page 130
مضامین بشیر جلد سوم 130 (3) تیسری قسم کا نا جائز تصرف اپنے اندر اس سے بھی زیادہ چالا کی اور دھوکا دہی کا پہلو رکھتا ہے۔اور وہ یہ کہ کسی حوالہ کے پیش کرنے میں نہ تو الفاظ میں رد و بدل کیا جائے اور نہ ہی انہیں سیاق وسباق سے کاٹا جائے مگر جس خاص ماحول میں کوئی الفاظ استعمال کئے گئے ہیں یا جس خاص فریق کو مخاطب کر کے کہے گئے ہیں انہیں اوجھل اور پس پردہ رکھ کر اور الفاظ کو عام رنگ دے کر پیش کر دیا جائے۔اس قسم کے نا جائز تصرف کی موٹی مثال یوں سمجھی جاسکتی ہے کہ ایک شخص میرے مکان پر آ کر مجھے مسلسل گالیاں دیتا اور افترا پردازی کرتا اور اشتعال انگیزی سے کام لیتا اور میرے خلاف طرح طرح کے گند اچھالتا ہے۔اور میں اس کے ظلم پر ایک لمبے عرصہ تک صبر سے کام لیتا ہوں۔لیکن آخر لمبے صبر کے بعد اسے ہوش میں لانے کی غرض سے اور جَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةُ مِثْلُهَا کے اصول کے ماتحت میں کہتا ہوں کہ فلاں شخص خبیث اور مفتری ہے۔اب اگر کوئی شخص صرف میرے یہ الفاظ تو نقل کر دیتا ہے کہ میں نے فلاں شخص کے متعلق خبیث کا لفظ استعمال کیا ہے مگر اس کی گالیوں اور افتراپردازیوں کے لمبے سلسلہ کو چھپا جاتا ہے اور اس کے ظلم پر پردہ ڈال کر اور اس کی افترا پردازی کو اوجھل رکھ کر میرے مظلوم ہونے کے باوجود میرے جوابی فقرہ کی وجہ سے مجھے ظالم ثابت کرنا چاہتا ہے تو یہ شخص ایک خطر ناک اور انتہا درجہ کے ناجائز تصرف کا مرتکب سمجھا جائے گا۔اسی طرح اگر میں نے کوئی بات ایک خاص ظالم اور بد باطن اور بادی طبقہ کے متعلق کہی ہے۔لیکن میرا کوئی مخالف اس کے پس منظر کو چھپا کر اسے عام رنگ میں پیش کرتا ہے کہ گویا میں نے یہ الفاظ کسی قوم کے سارے افراد کے متعلق استعمال کئے ہیں۔تو ایسا شخص بھی ایک ایسے ناجائز تصرف کا مرتکب ہوتا ہے جس کے لئے اسے یقیناً خدا کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا۔اور ہر دیانتدار اور انصاف پسند انسان کی آواز اس کے خلاف اٹھنی چاہئے۔یہ وہ تین قسم کے ناجائز تصرفات ہیں جو بے اصول لوگوں کی طرف سے ہمارے خلاف بکثرت اختیار کئے جاتے ہیں۔اور ہر وہ شخص جسے دیانتداری کا احساس نہیں اپنی اپنی فطرت اور اپنے اپنے خیال کے مطابق ان ناجائز تصرفات کے میدان میں داخل ہو کر یہ ناپاک ہولی کھیل رہا ہے۔متشابہ کلام کو لے کر اور محکم کو چھوڑ کر خاص ماحول میں کہے گئے الفاظ کو لے کر اور اس کے خاص ماحول کو پس پردہ رکھ کر یا پھر اس خاص طبقہ کے ذکر کو چھپا کر جس کے متعلق کوئی الفاظ کہے گئے ہیں اور انہیں عام رنگ دے کر گویا کہ وہ سب کے لئے کہے گئے ہیں ہمارے خلاف ہر طرح کا گند اچھالا جارہا ہے۔اور کوئی انصاف پسند شخص ( وَالشَّادُ كَالْمَعْدُوْم ) آگے آکر اس کلمہ حق کے کہنے کی جرات نہیں کرتا کہ بے شک دنیا دھوکا کھا سکتی ہے مگر خدا تو تمہارے سر پر موجود