مضامین بشیر (جلد 3) — Page 728
مضامین بشیر جلد سوم 728 فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً ، وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ (الرعد:18) یعنی خدا کا یہ قانون ہے کہ سطحی قسم کی ناکارہ جھاگ تو جلد بیٹھ کر ختم ہو جاتی ہے مگر جو چیز لوگوں کو نفع پہنچانے والی ہو وہ قائم رہتی ہے۔مگر افسوس ہے کہ آج کل اکثر لوگ خدا کے بینا قانون کو چھوڑ کر اپنے اند ھے قانون کے ذریعہ کتنے چمکنے والے آفتابی بچوں کے جان لیوا ثابت ہو رہے ہیں۔بیشک جیسا کہ میں اوپر کہہ چکا ہوں انبیاء کی پیدائش خدا کی خاص تقدیر یعنی سپیشل ڈگری کے ماتحت ہوا کرتی ہے مگر میں بعض اوقات عمومی رنگ میں سوچا کرتا ہوں کہ اگر نبیوں کی پیدائش بھی عام قانون کے ماتحت ہوا کرتی تو شاید برتھ کنٹرول کی اندھی چھری کی وجہ سے بعض نبی بھی اس کا شکار ہو جاتے اور اس صورت میں دنیا کتنے روحانی خزائن سے محروم ہو جاتی۔مگر ہمیں اتنی دور جانے کی ضرورت نہیں اگر بالفرض بانی پاکستان یعنی قائد اعظم کا قیمتی وجود ہی برتھ کنٹرول کا شکار ہو جا تا تو پاکستان کہاں ہوتا ؟ یا اگر امریکہ میں جارج واشنگٹن اور ابراہام لنکن برتھ کنٹرول کی بھینٹ چڑھ جاتے تو بظا ہر صورت ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا کیا حشر ہوتا؟ سوچو اور غور کرو! ہاں پھر سوچو اور غور کرو!! (30) شائد اس جگہ کسی شخص کے دل میں یہ شبہ گزرے کہ بے شک برتھ کنٹرول ایک اندھی چھری ہے مگر جس طرح اس کے ذریعہ بعض اعلیٰ قومی رکھنے والی نیک اور اصلاحی روحوں کے ضائع ہو جانے کا اندیشہ ہے اسی طرح اس کی وجہ سے بعض بُری اور فسادی روحوں کے کٹ جانے کا بھی تو امکان ہے۔اور اس طرح دونوں طرف کے امکان سے یہ معاملہ گویا سمویا جاتا ہے اور کسی خاص خطرے کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔لیکن اگر غور کیا جائے کہ یہ دلیل سراسر کوتاہ بینی اور انسانی فطرت کے غلط مطالعہ پر مبنی ہے۔کیونکہ اصل اور فطری چیز نیکی ہے جسے مثبت نوعیت حاصل ہے۔اور بدی صرف غیر فطری اور منفی قسم کی چیز ہے۔اس لئے بہر حال نیکی کے پہلوکوتر جیح حاصل رہے گی۔غالباً کوئی عقل مند انسان ایسا نہیں مل سکتا جو اس خیال پر تسلی پا سکے کہ بے شک دنیا میں اعلیٰ قومی کے نیک اور مصلح لوگ نہ پیدا ہوں مگر بہر حال بدوں کی پیدائش کا رستہ بند ہونا چاہئے۔روشنی اندھیرے کو دور کیا کرتی ہے اندھیرا روشنی کو دور نہیں کرتا۔اسی لئے اسلام نے بدی کے استیصال کی نسبت نیکی کے قیام پر زیادہ زور دیا ہے۔چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے: إِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَاتِ ذلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرينَ (هود: 115) یعنی نیکیوں کو یہ طاقت حاصل ہے کہ وہ بدیوں کو بہا کر لے جاتی ہیں۔یہ بات یادرکھنے والوں کے لئے یا در کھنے کے قابل ہے۔