مضامین بشیر (جلد 3) — Page 718
مضامین بشیر جلد سوم 718 کی پیدائش کو روکنے میں فرق ہے۔کیونکہ پیدائش کو روکنا قتل نہیں کہلا سکتا۔مگر یہ شبہ درست نہیں کیونکہ قرآنی آیات اور احادیث رسول نے ان دونوں کو عملاً ایک ہی چیز قرار دیا ہے۔بے شک درجہ میں فرق ہے مگر عملاً اور نتائج کے لحاظ سے وہ دراصل ایک ہی چیز ہیں۔کیونکہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے عزل کو الواد الخَفی (یعنی خفیہ رنگ میں زندہ درگور کرنا ) قرار دیا ہے۔اور قرآن مجید نے اسے بعض حالات میں بے حیائی کا موجب گردانا ہے۔حالانکہ ظاہر ہے کہ بے حیائی کا امکانی تعلق صرف برتھ کنٹرول کے ساتھ ہے ظاہری قتل کے ساتھ ہر گز نہیں جو کہ ظلم ہے نہ کہ موجب بے حیائی۔مگر باوجود اس کے قرآن نے اس کے متعلق قتل کا لفظ استعمال کیا ہے۔اور پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نطفہ میں بھی جان ہوتی ہے اور اسے دیدہ و دانستہ ڈاکٹری ہدایت کے بغیر ضائع کرنا بھی ایک رنگ کا قتل ہے۔مفصل مضمون لکھتے ہوئے اس کے متعلق انشاء اللہ حسب ضرورت مزید تشریح کر دی جائے گی۔نوٹ: اس جگہ ضمنا یہ ذکر کر دینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عیسائیوں میں رومن کیتھولک فرقہ جو عیسائیوں کے دوسرے فرقوں کے مقابل پر اکثریت میں ہے برتھ کنٹرول کے خلاف ہے اور اسے مذہبی رنگ میں گناہ خیال کرتا ہے۔(14) پھر اللہ تعالیٰ اپنے رازق ہونے کی صفت کے متعلق فرماتا ہے کہ ہم چونکہ خالق ہیں اس لئے مخلوق کا رزق بھی ہمارے ذمہ ہے۔چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے: (الف) وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلِّ فِي كِتَبٍ مُّبِينٍ (هود:7) یعنی انسان تو انسان زمین پر کوئی رینگنے والا جانور بھی ایسا نہیں جس کا رزق خدا کے ذمہ نہ ہو۔وہی اس کی زندگی کی قرارگاہ اور آخری انجام کو جانتا ہے اور ہر چیز اس کی ازلی ابدی قانون میں محفوظ ہے۔(ب) نیز فرماتا ہے: وَكَاتِنُ مِنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا مَ اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ (العنكبوت:61) یعنی دنیا میں کتنے جانور ہیں جو اپنے رزق کو ذخیرہ کر کے نہیں رکھ سکتے مگر اللہ ان کو رزق دیتا ہے اور اے انسانو! وہی آسمانی آقا تمہارے رزق کا سامان مہیا کرتا ہے۔(15) ان آیات سے یہ مراد نہیں کہ خدا انسانوں کے لئے آسمان سے روٹی گراتا ہے کہ بیٹھے رہو اور کھاؤ۔بلکہ مراد یہ ہے کہ خدا نے نیچر میں ایسے وسیع سامان اور ایسے کثیر التعداد ذ رائع ودیعت کر رکھے ہیں کہ