مضامین بشیر (جلد 3) — Page 704
مضامین بشیر جلد سوم 704 پدرانہ سلوک رہا۔حتی کہ جہاں بڑے بڑے صحابہ آپ کے ساتھ بات کرنے میں رعب کی وجہ سے اکثر اوقات حجاب محسوس کرتے تھے وہاں حضرت اسامہ بچوں کی طرح آپ کے پاس بے تکلف جا کر اپنے دل کی باتیں کر لیتے تھے۔غلاموں کے ساتھ آپ صرف رسمی محبت ہی نہیں فرماتے تھے بلکہ آپ نے ان کو اسلامی سوسائٹی میں اعلیٰ مقام دے رکھا تھا۔چنانچہ جو اسلامی لشکر آپ نے اپنی مرض الموت میں عرب کی شمالی سرحد کی طرف روانہ فرمایا اس میں حضرت اسامہ کو جو بظاہر ایک غلام زادہ تھے ) اس لشکر کا جس میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر جیسے جلیل القدر صحابی شامل تھے سپہ سالار مقرر کیا تھا۔اسی مرض الموت میں جب آپ نے اپنا وقت قریب سمجھا تو صحابہ کو وصیت کے رنگ میں فرمایا کہ اَلصَّلَوهُ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ - یعنی دیکھو اور سنو کہ میرے بعد خدائے واحد کی عبادت کے پابند رہنا اور اپنے غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔اپنے صحابہ اور ساتھیوں کا بھی بے حد خیال تھا اور آپ ان کے لئے مجسم رحمت تھے۔ایک موقع پر آپ کے ایک صحابی حاطب بن ابی بلتعہ سے ایک خطر ناک غلطی ہو گئی جو حقیقتا قومی غداری کے مترادف تھی۔یعنی جب آپ فتح مکہ کے موقع پر اپنی یلغار کو بصیغۂ راز رکھتے ہوئے مکہ کی طرف کوچ فرمانے لگے تو حاطب نے مکہ میں رہنے والے غریب رشتہ داروں کی ہمدردی کے خیال سے مکہ والوں کو ایک خفیہ خط کے ذریعہ یہ اطلاع بھجوائی کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بڑے لشکر کے ساتھ مکہ پر حملہ کرنے کے لئے آرہے ہیں تم لوگ اپنی فکر کر لو۔حاطب کا یہ خط رستہ میں پکڑا گیا اور اس خط کا راز فاش ہو گیا۔اس پر حضرت عمر کو اتنا غصہ تھا کہ غصہ سے کانپتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حاطب کا عذ رسن کر فرمایا ”عمر سے منافق نہ کہو۔کیا تم نہیں جانتے کہ وہ بدری صحابی ہے اور اس سے صرف اپنے رشتہ داروں کی ہمدردی میں یہ غلطی سرزد ہوئی ہے۔اور ساتھ ہی حضرت عمرؓ کو نرمی کے ساتھ سمجھایا کہ ” کیا تم پسند کرتے ہو کہ لوگوں میں یہ چرچا ہو کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرواتا پھرتا ہے۔‘ اور دوسری طرف حاطب سے فرمایا۔جاؤ خدا تمہیں معاف کرے پھر ایسی بات نہ کرنا۔ایک دفعہ ایک صحابی نے آپ کی خدمت میں کسی دوسرے صحابی کے خلاف کوئی شکایت کی۔آپ نے فرمایا۔دیکھو میرے پاس میرے صحابیوں کی شکایت نہ کیا کرو۔میں چاہتا ہوں کہ رات کو گھر جاؤں تو اپنے صحابیوں کے متعلق اپنا سینہ صاف لے کر جاؤں۔اور صبح کو باہر آؤں تو اس وقت بھی ان کے متعلق میرا سینہ