مضامین بشیر (جلد 3) — Page 703
مضامین بشیر جلد سوم 703 یعنی اے مسلمانو! تم میں سے میرے خدا کی نظر میں اچھا مسلمان وہ ہے جس کا سلوک اپنی بیوی کے ساتھ اچھا ہے اور میں تم سب میں سے اپنی بیویوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے والا ہوں۔آپ کی سب سے بڑی بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہجرت سے پہلے ہی فوت ہو گئی تھیں مگر آپ کے دل میں ان کی محبت آخر وقت تک تازہ رہی۔جب گھر میں کوئی اچھا تحفہ آتا تھا تو حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کو ضرور بھجواتے تھے۔ایک دفعہ ایک عورت آپ سے ملنے آئی اور اتفاق سے اس کی آواز حضرت خدیجہ کی آواز سے بہت ملتی تھی۔آپ یہ آواز سن کر بے چین ہو گئے اور بے تاب ہو کر فر مایا یہ آواز تو میری خدیجہ سے ملتی ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کی بہت چہیتی زوجہ تھیں (اور وہ اپنے اوصاف اور علم وفضل کے لحاظ سے اس کی اہل بھی تھیں) وہ بیان کرتی ہیں کہ بسا اوقات آپ اپنی ازواج کے ساتھ بیٹھے ہوئے محبت اور بے تکلفی کے ساتھ باتیں کرتے تھے اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا آپ ہماری محبت میں محو ہیں۔مگر جب اچانک اذان کی آواز آتی تھی اور مؤذن نماز کی طرف بلاتا تھا تو آپ ہمیں چھوڑ کر یوں اٹھ جاتے تھے کہ گویا ہمیں جانتے ہی نہیں۔انہی حضرت عائشہ سے یہ بھی روایت ہے کہ ایک دفعہ میں نے ایک برتن سے منہ لگا کر پانی پیا اور پھر وہ برتن ایک طرف کو ر کھنے لگی۔آپ نے فرمایا' عائشہ یہ برتن مجھے دے دو اور پھر اس برتن میں اسی جگہ منہ لگا کر جہاں سے میں نے پیا تھا آپ میرا بچا ہوا پانی پی گئے۔اکثر فرمایا کرتے تھے کہ خدایا جہاں تک مجھے طاقت ہے میں اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک اور عدل وانصاف کا معاملہ کرتا ہوں۔لیکن جو بات میری طاقت میں نہیں اس میں تو مجھے معاف فرما۔اس زمانہ میں غلاموں کا عام رواج تھا اور ہر ملک اور ہر قوم اور ہر مذہب کے متبعین میں غلام رکھے جاتے تھے اور وہ ہر ملک کے تمدن کا ایک لازمی حصہ تھے۔اسلام نے اسے آئندہ کے لئے اصولی طور پر منع فرما دیا تھا اور صرف جنگی قیدیوں کی اجازت دی۔مگر جب تک غلامی کی حرمت نازل نہیں ہوئی آپ نے غلاموں کے ساتھ بہترین سلوک فرمایا۔اسلام سے قبل آپ کو اپنی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ کی طرف سے ایک غلام زید بن حارث ملے تھے۔آپ نے ان کے ساتھ ایسا مشفقانہ سلوک کیا کہ جب ان کے والد ان کو واپس لینے آئے تو زید نے آپ کا حسن سلوک دیکھتے ہوئے اپنے باپ کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا اور آپ کی خدمت کو ترجیح دی۔اس کے بعد آپ نے ان کو ملکی دستور کے مطابق اپنا بیٹا بنا لیا۔لیکن جب اسلام نے بیٹا بنانے کی رسم حرام قرار دی تو اس کے بعد بھی آپ ان کے ساتھ ہمیشہ نہایت درجہ محبت اور شفقت کا سلوک فرماتے رہے۔اور جب حضرت زید فوت ہوئے تو ان کے بیٹے حضرت اسامہ کے ساتھ بھی آپ کا وہی