مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 697 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 697

مضامین بشیر جلد سوم 697 غلطی سے سحر کا نام بھی دے دیتے ہیں۔مگر اس علم کو روحانیت سے کوئی تعلق نہیں۔بلکہ یہ وہ علم ہے جس میں ایک مشاق انسان خواہ وہ کسی مذہب کا ہوا اپنی توجہ کے زور سے بعض دوسرے لوگوں کے دماغ یا حواس پر ایک وقتی اثر پیدا کر دیتا ہے۔اور اس صورت میں ایک معمول کو بعض غیر حقیقی چیزیں نظر آنے لگتی ہیں۔یا بعض غیر حقیقی آواز میں حقیقت کے رنگ میں سنائی دے جاتی ہیں۔اور بعض اوقات اس کا اثر ایک سے زیادہ انسانوں تک بلکہ ایک انبوہ تک بھی وسیع ہو جاتا ہے اور ایک معتد بہ جماعت اس سے متاثر ہو جاتی ہے۔مگر جیسا کہ میں نے کہا اس علم کو روحانیت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ایک غیر مسلم انسان حتی کہ ایک دہریہ تک بھی مشق کے ذریعہ یہ ملکہ پیدا کر سکتا ہے اور خاکسار راقم الحروف نے ایسے کئی نظارے دیکھے ہیں۔بلکہ اس علم میں کافی مشق کے ذریعہ بعض اوقات ایک غیر جاندار چیز پر بھی اثر پیدا کیا جاسکتا ہے۔مثلاً بعض اوقات ایک جلتا ہوا لیمپ مدھم کیا جا سکتا ہے۔یا بعض اوقات ایک بند زنجیر کو کھولا جاسکتا ہے۔یا ایک لکڑی یا لوہے کی میز سے آواز اٹھائی جاسکتی ہے اور بعض لوگ اس علم کو بعض بیماریوں کے علاج میں بھی استعمال کرتے ہیں وغیرہ ذالک۔اور یہ ایک ایسی معروف اور تجربہ شدہ بات ہے جس پر کوئی شاہد لانے کی ضرورت نہیں۔انسانی روح اور حیوانی روح میں فرق ضمنا یہ بات بھی بیان کردینی نامناسب نہ ہوگی کہ انسانی روح اور حیوانی روح میں بھاری فرق ہوتا ہے۔اور یہ فرق یہ ہے کہ انسانی روح جسم سے الگ ہو کر بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے مگر حیوانی روح کو یہ صلاحیت حاصل نہیں۔بلکہ جب کوئی جانور مرتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کی روح بھی مرجاتی ہے۔اس لئے اکثر محققین حیوانی روح کو روح کا نام ہی نہیں دیتے بلکہ اسے صرف جان یا زندگی کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں اور روح کا لفظ صرف انسانی روح پر بولا جاتا ہے۔اس امتیاز کی وجہ یہ ہے کہ جیسا کہ قرآن مجید نے بار بار صراحت کی ہے انسان ابدی زندگی کے لئے پیدا کیا گیا ہے جو اسے کچھ اس دنیا میں ملتی ہے اور اس کا ایک بہت لمبا حصہ مرنے کے بعد آخرت کی زندگی میں ملے گا تا کہ وہ آخرت میں اپنے نیک و بد اعمال کی جزا یا سزا پا سکے۔مگر حیوانوں کی پیدائش میں یہ غرض مد نظر نہیں بلکہ وہ صرف انسان کی خاطر سے عارضی زندگی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور مرنے کے ساتھ ہی ختم ہو جاتے ہیں۔اسی لئے انسان کے متعلق قرآن فرماتا ہے کہ: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ثُمَّ رَدَدْنَهُ أَسْفَلَ سَفِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا