مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 696 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 696

مضامین بشیر جلد سوم وَاللَّهِ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ جَمَالَهُ بِعُيُونِ جِسْــــــي جِسْمِي قَاعِداً بِمَكَانِـي وَرَأَيْتُ فِـي رَيَــعَـــانِ عُمْرِى وَجْهَهُ ثُمَّ النَّبِيُّ بِيَقُظَتِي لَا قَانِـي 696 آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 593) یعنی خدا کی قسم ! میں نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و جمال کو اپنے اس جسم کی آنکھوں کے ساتھ اپنے مکان کے اندر بیٹھے ہوئے دیکھا ہے۔میں نے بالکل آغاز جوانی میں آپ کے روئے مبارک کو دیکھا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عین بیداری کی حالت میں مجھے مکر ملاقات کا شرف بخشا۔اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام کی ملاقات کے متعلق فرماتے ہیں کہ: (میری) بار با کشفی حالت میں (عیسی علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی اور ایک ہی خوان میں میرے ساتھ اس نے کھانا کھایا۔نورالحق حصہ اول روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 56-57) اسی قسم کے ہزاروں واقعات اسلام کی تاریخ بلکہ قبل اسلام کے زمانہ میں روحانی لوگوں کے حالات زندگی میں ملتے ہیں۔مگر آ جا کے بات یہی ثابت ہوتی ہے کہ یہ سب کشفی نظارے ہیں جن میں خدا کے اذن سے نہ کہ از خود مرنے والوں کی روحوں سے زندہ لوگوں کی ملاقات ہو جاتی ہے۔اور یہ خاکسار بھی اس معاملہ میں کسی حد تک صاحب تجر بہ ہے۔وَلَا فَخْرَ۔روحوں کے بلانے کی مزعومہ حقیقت کیا ہے؟ بالآخر یہ سوال رہ جاتا ہے کہ آج کل جو بعض لوگ اور خصوصاً مغربی ممالک کے لوگ روحوں کے بلانے کا دعوی کرتے ہیں اس کی کیا حقیقت ہے؟ سوچونکہ میری آنکھوں کے سامنے ایسا کوئی واقعہ نہیں گزرا اس لئے میں اس قسم کے واقعات کے متعلق بصیرت کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتا۔لیکن میں اس قدر یقیناً جانتا ہوں کہ ایسا ہونا اذنِ الہی کے بغیر ممکن نہیں۔میں یہ بھی جانتا ہوں کہ بعض محققین نے اس قسم کے واقعات کو نظر یا سماع کا دھوکا قرار دیا ہے۔چنانچہ یورپ اور امریکہ کے کئی لوگ بھی یہی رائے رکھتے ہیں۔لیکن اگر ایسی رپورٹوں کو حسنِ ظنی کی نظر سے دیکھا جائے تو زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایسے تجربات ہپناٹزم یعنی علم تو جہ سے تعلق رکھتے ہیں جو ایک معروف اور مسلم علم ہے اور قدیم زمانہ سے چلا آیا ہے جسے بعض لوگ