مضامین بشیر (جلد 3) — Page 694
مضامین بشیر جلد سوم 694 آسکے۔حالانکہ یہاں یہ مٹی والی معروف قبر مراد نہیں بلکہ مرنے کے بعد مرنے والوں کی روح کے رکھے جانے کا مقام مراد ہے۔یہ وہی مقام ہے جسے دوسری اصطلاح میں قرآن مجید نے برزخ کا نام دیا ہے جو حشر ونشر سے پہلے ایک درمیانی زمانہ کا مقام ہے۔مرنے والی روحوں کا تعلق دنیا کے ساتھ کسی نہ کسی رنگ میں اسی وقت تک قائم رہتا ہے جب تک کہ وہ قبر یعنی برزخ کے زمانہ میں رہتی ہیں۔اس کے بعد یہ تعلق ختم ہو کر کامل طور پر اخروی زندگی شروع ہو جائے گی۔میں شائد بار یک مذہبی اصطلاحوں میں جارہا ہوں مگر دراصل یہ مسائل آپس میں اتنے مربوط ہیں کہ ان کی تاریں ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح الجھی ہوئی ہیں کہ ان میں سے ایک کو دوسرے سے جدا کرنا بظا ہر ممکن ہی نہیں۔کیا مرنے والے کی روح کے ساتھ ملاقات ہوسکتی ہے؟ اب رہا یہ سوال کہ کیا کسی زندہ انسان کی کسی فوت شدہ انسان کی روح کے ساتھ اسی دنیا میں ملاقات ہو سکتی ہے؟ اور دراصل فاروقی صاحب کے سوالوں کا یہی مرکزی نقطہ ہے۔سوجیسا کہ میں شروع میں بیان کر چکا ہوں اس کے جواب میں میرا کہنا یہ ہے کہ ہاں یہ ملاقات ہو سکتی ہے۔لیکن میں اسے فاروقی صاحب کی طرح ایک تماشہ نہیں سمجھتا کہ جب چاہا اور جس نے چاہا کسی فوت شدہ روح کو بلا کر اس کے ساتھ باتیں شروع کر دیں۔کیونکہ یہ نظریہ قرآنی آیات کے صریح خلاف ہے۔چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے کہ : وَمِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ (المومنون:101) یعنی مرنے والوں اور اس دنیا میں رہنے والوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جو حشر نشر کے دن تک یعنی قیامت تک قائم رہے گا۔یہ ملاقات کس طرح ہوسکتی ہے؟ تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس صورت میں فوت شدہ روحوں کے ساتھ زندہ لوگوں کی ملاقات کس طرح ہو سکتی ہے؟ سو اس کے متعلق بھی قرآن مجید خاموش نہیں۔چنانچہ فرماتا ہے: وَيَسْتَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوْتِيْتُمُ مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيْلًا (بنی اسرائیل: 86) یعنی اے رسول ! لوگ تجھ سے روحوں کے متعلق پوچھتے ہیں ( کہ ان کا معاملہ کس طرح پر ہے؟) تو ان سے کہہ دے کہ روحوں کا معاملہ خدا کے حکم پر موقوف ہے۔مگر اے لوگو! تمہیں اس بارے میں بہت کم علم دیا