مضامین بشیر (جلد 3) — Page 693
مضامین بشیر جلد سوم 693 مالیکیول کہہ سکتے ہیں (میں سائنس کا عالم نہیں ہوں صرف سمجھانے کی غرض سے عام رنگ میں بیان کر رہا ہوں ) محفوظ رہتا ہے۔اور اس حدیث میں اس حصہ کو عَجَبُ الذَنَب یعنی ریڑھ کی ہڈی کے اسفل ترین حصہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔(بخاری کتاب التفسیر ) چنانچہ اسی وجہ سے مرنے والوں کی قبروں کے ساتھ ان کی روحوں کا کسی نہ کسی رنگ میں رابطہ تسلیم شدہ ہے۔اور اکثر اولیاء و صلحاء کا تجربہ ہے کہ جب وہ کسی فوت شدہ بزرگ کی قبر پر جا کر توجہ سے دعا کرتے ہیں تو بعض اوقات کشفی حالت میں صاحب قبر کی روح کے ساتھ ان کی ملاقات ہو جاتی ہے۔اور یا درکھنا چاہئے کہ کشف اور خواب بالکل جدا گانہ چیزیں ہیں۔کیونکہ خواب نیند کی حالت میں آتی ہے اور کشف بیداری کی حالت میں ہوتا ہے۔جبکہ کشف دیکھنے والے کی آنکھوں پر سے مادی پردے اٹھا کر اسے کوئی غیبی نظارہ دکھایا جاتا ہے۔اور یہ نظارہ ایسا ہوتا ہے کہ جیسے مادی آنکھوں کے سامنے کوئی سینما کی تصویر پھر جاتی ہے۔اسلامی اصطلاح کے مطابق قبر کی تشریح اس جگہ یہ صراحت بھی ضروری ہے کہ اسلامی محاورہ میں قبر سے ہمیشہ مٹی کے ڈھیر والی معروف قبر ہی مراد نہیں ہوتی بلکہ اس سے وہ مقام بھی مراد ہوتا ہے کہ جہاں مرنے کے بعد حشر و نشر سے پہلے انسانی روح رکھی جاتی ہے۔چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے: ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ (عبس:22) یعنی اللہ تعالیٰ ہر انسان پر موت وارد کرتا ہے اور پھر اسے اس کی قبر میں رکھتا ہے اب ظاہر ہے کہ دنیا میں ہر انسان کو یہ مٹی کے ڈھیر والی قبر میسر نہیں آتی کیونکہ کروڑوں انسانوں کے مُر دے جلائے جاتے ہیں اور دفن نہیں ہوتے۔لاکھوں انسان ڈوب کر مرتے ہیں۔ہزاروں انسانوں کو جنگل کے درندے کھا کر ختم کر دیتے ہیں۔تو پھر ہر انسان کے متعلق یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اسے خدا قبر میں رکھتا ہے؟ یقینا یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ جیسا کہ حدیث میں صراحت آتی ہے۔قبر سے مراد وہ قیام گاہ لی جائے جہاں مرنے کے بعد اور کامل حساب کتاب سے پہلے انسان کی روح رکھی جاتی ہے۔چنانچہ انہی معنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عذاب النار سے ممتاز کر کے عذاب قبر کی اصطلاح استعمال فرمائی ہے۔جس سے ناواقف یا ظاہر پرست لوگوں نے یہ ظاہری قبر مراد لے کر قبروں کو فراخ بنانا شروع کر دیا۔تا کہ منکر نکیر نامی فرشتوں کے سامنے بیٹھنے کے لئے مرنے والے کو کافی جگہ میسر